طالبان کے پانچ سالہ اقتدار کیخلاف دنیا کے 24 شہروں میں احتجاج
طالبان کے پانچ سالہ اقتدار کیخلاف دنیا کے 24 شہروں میں احتجاج
عالمی ڈیسک: افغان طالبان کی اقتدار میں واپسی کو پانچ سال مکمل ہونے پر دنیا بھر میں مقیم افغان تارکینِ وطن نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ یورپ، امریکا، کینیڈا اور پاکستان سمیت مختلف ممالک کے 24 بڑے شہروں میں طالبان رجیم کے خلاف احتجاجی ریلیاں، مظاہرے اور بھوک ہڑتالیں کی گئیں۔
یورپ اور شمالی امریکا کے بڑے شہروں میں ریلیاں
افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے کابل پر قابض رجیم سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کی سخت مخالفت کی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں انسانی بحران کا نوٹس لے۔
جرمنی میں بڑے مظاہرے: برلن، میونخ، فرینکفرٹ، ہیمبرگ، کولون اور ڈسلڈورف سمیت 9 سے زائد شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں۔
کینیڈا اور امریکا: ٹورنٹو کے کوئینز پارک میں افغان مہاجرین نے بڑا مظاہرہ کیا اور طالبان کی رجعت پسندانہ پالیسیوں کے خلاف نعرے لگائے۔
جنیوا میں یو این دفتر کے باہر مظاہرہ: جنیوا میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر کے باہر مظاہرین نے جمع ہو کر طالبان حکومت کے احتساب کا مطالبہ کیا۔
ایمسٹرڈیم میں یورپی یونین سے اپیل: ہالینڈ کے دارالحکومت میں مظاہرین نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ طالبان کو تسلیم کرنے کے بجائے خواتین کے حقوق کو اولین ترجیح دے۔
H2: مظاہرین کے بنیادی مطالبات
مظاہرین نے بنیادی انسانی حقوق، پریس کی آزادی اور خواتین کے تعلیمی و روزگار کے حقوق کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ جرمنی کے شہروں ہیمبرگ اور اسٹٹگارٹ میں افغان شہریوں نے ’’روٹی، کام اور آزادی‘‘ کے نعرے لگائے۔
H3: سیاسی تجزیہ کاروں اور ماہرین کی رائے
سیاسی و بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ تارکینِ وطن کا یہ وسیع تر احتجاج اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ طالبان کو عالمی سطح پر قبولیت نہیں ملے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بیرونی ممالک میں بڑھتی مخالفت اور افغانستان کے اندر جنم لینے والی مزاحمتی تحریکیں مستقبل میں موجودہ رجیم کے خاتمے کی راہ ہموار کریں گی۔عالمی ڈیسک: افغان طالبان کی اقتدار میں واپسی کو پانچ سال مکمل ہونے پر دنیا بھر میں مقیم افغان تارکینِ وطن نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ یورپ، امریکا، کینیڈا اور پاکستان سمیت مختلف ممالک کے 24 بڑے شہروں میں طالبان رجیم کے خلاف احتجاجی ریلیاں، مظاہرے اور بھوک ہڑتالیں کی گئیں۔
یورپ اور شمالی امریکا کے بڑے شہروں میں ریلیاں
افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے کابل پر قابض رجیم سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کی سخت مخالفت کی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں انسانی بحران کا نوٹس لے۔
جرمنی میں بڑے مظاہرے: برلن، میونخ، فرینکفرٹ، ہیمبرگ، کولون اور ڈسلڈورف سمیت 9 سے زائد شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں۔
کینیڈا اور امریکا: ٹورنٹو کے کوئینز پارک میں افغان مہاجرین نے بڑا مظاہرہ کیا اور طالبان کی رجعت پسندانہ پالیسیوں کے خلاف نعرے لگائے۔
جنیوا میں یو این دفتر کے باہر مظاہرہ: جنیوا میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر کے باہر مظاہرین نے جمع ہو کر طالبان حکومت کے احتساب کا مطالبہ کیا۔
ایمسٹرڈیم میں یورپی یونین سے اپیل: ہالینڈ کے دارالحکومت میں مظاہرین نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ طالبان کو تسلیم کرنے کے بجائے خواتین کے حقوق کو اولین ترجیح دے۔
مظاہرین کے بنیادی مطالبات
مظاہرین نے بنیادی انسانی حقوق، پریس کی آزادی اور خواتین کے تعلیمی و روزگار کے حقوق کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ جرمنی کے شہروں ہیمبرگ اور اسٹٹگارٹ میں افغان شہریوں نے ’’روٹی، کام اور آزادی‘‘ کے نعرے لگائے۔
سیاسی تجزیہ کاروں اور ماہرین کی رائے
سیاسی و بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ تارکینِ وطن کا یہ وسیع تر احتجاج اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ طالبان کو عالمی سطح پر قبولیت نہیں ملے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بیرونی ممالک میں بڑھتی مخالفت اور افغانستان کے اندر جنم لینے والی مزاحمتی تحریکیں مستقبل میں موجودہ رجیم کے خاتمے کی راہ ہموار کریں گی۔