پاکستان میں جی ایم مکئی کی کاشت کی اصولی منظوری، ملٹی نیشنل کمپنیوں کی 2 دہائیوں پر محیط کوششیں بار آور

پاکستان میں جی ایم مکئی کی کاشت کی اصولی منظوری، ملٹی نیشنل کمپنیوں کی 2 دہائیوں پر محیط کوششیں بار آور

Sep 10, 2026|ویب ڈیسک

اکستان میں زرعی پیداوار بڑھانے اور فصلوں کو موسمیاتی شدت سے بچانے کے لیے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم) مکئی کی کاشت سے متعلق اصولی منظوری دے دی گئی ہے۔ یہ اہم فیصلہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) اور گرین پاکستان انیشیٹو کے اشتراک سے جاری اصلاحات کے تحت سامنے آیا ہے۔

کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں، جس میں وزیر خزانہ اور گرین پاکستان انیشیٹو کے چیف ایگزیکٹو نے شرکت کی، ملک میں جی ایم مکئی کے استعمال کی باقاعدہ منظوری دی گئی۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی دو دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری کوششوں کے بعد ملٹی نیشنل بیج کمپنیوں کے لیے پاکستان میں اس جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی ممکن ہو گئی ہے۔

جی ایم مکئی کا جدید بیج کیڑوں، بیماریوں اور شدید موسمی اثرات کے خلاف غیر معمولی قوتِ مدافعت رکھتا ہے۔ بائر، کارگل، سنجینٹا اور کورٹِیوا جیسی عالمی کمپنیاں، جو 1980 کی دہائی سے پاکستان کی بیج صنعت میں سرگرم ہیں، اس فیصلے کے بعد جدید زرعی حل متعارف کروا سکیں گی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹس کے مطابق ملٹی نیشنل کمپنیاں پہلے بھی ہائبرڈ بیجوں کے ذریعے ملکی زراعت میں جدت لانے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق جی ایم مکئی کی منظوری سے نہ صرف فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا بلکہ کسانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔