افغانستان: طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں جھڑپوں کے دوران 5 اہلکار ہلاک

افغانستان: طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں جھڑپوں کے دوران 5 اہلکار ہلاک

Sep 9, 2026|ویب ڈیسک

افغانستان: طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں جھڑپوں کے دوران 5 اہلکار ہلاک




افغان طالبان کو مختلف صوبوں میں مسلح مزاحمت کا سامنا، گرفت کمزور پڑنے لگی


بدخشاں: افغانستان فریڈم فرنٹ اور این آر ایف کے حملے، متعدد طالبان کے ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ


ڈیسک: افغانستان کے مختلف علاقوں میں افغان طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں شدت آگئی ہے اور مسلح گروہوں کے مسلسل حملوں نے طالبان کی جانب سے ملک پر مکمل کنٹرول کے دعوؤں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔


افغان نشریاتی ادارے ’آماج نیوز‘ کے مطابق صوبہ بدخشاں میں افغانستان فریڈم فرنٹ اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والی تازہ جھڑپوں میں 4 طالبان اہلکار ہلاک اور 7 زخمی ہوئے ہیں۔


دوسری جانب طالبان مخالف اتحاد ’نیشنل ریزسٹنس فرنٹ‘ (این آر ایف) نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ بدخشاں کے ضلع راغ کوہستان میں ان کی ایک مزاحمتی کارروائی میں ایک طالبان اہلکار ہلاک اور 6 زخمی ہوئے ہیں۔ این آر ایف کے مطابق ان حملوں میں طالبان کو بھاری مالی نقصان بھی پہنچا ہے تاہم کارروائی کے دوران عام شہری مکمل طور پر محفوظ رہے۔


این آر ایف کا مزید کہنا ہے کہ طالبان کے ’غیر قانونی تسلط‘ سے آزادی کے لیے ملک بھر میں ان کی ٹارگٹڈ کارروائیاں اسی طرح جاری رہیں گی۔


حالیہ صورتحال پر ماہرین کا کہنا ہے کہ بدخشاں، ہرات، تخار اور دیگر افغان صوبوں میں سرگرم مسلح تحریکیں طالبان انتظامیہ کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ملک میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت کا تیزی سے پھیلاؤ ان کی کمزور ہوتی گرفت اور عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی واضح علامت ہے، جو اندرونی اختلافات کے ساتھ مل کر موجودہ سیٹ اپ کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے۔