افغانستان میں سیکیورٹی بحران سنگین، طالبان مخالف کارروائیوں میں تیزی
افغانستان میں سیکیورٹی بحران سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے، جہاں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمتی کارروائیوں میں غیر معمولی تیزی نے کابل انتظامیہ کے امن اور ملک پر مکمل گرفت کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ تاجکستان کی سرحد سے متصل افغان صوبے بدخشاں میں حالیہ شدید جھڑپوں نے طالبان کے لیے بڑے سیکیورٹی چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔
افغان میڈیا کے مطابق اہم مزاحمتی رہنما احمد مسعود، جنرل یاسین ضیاء اور جنرل سمیع سادات سمیت مختلف مخالف گروہ ایک بار پھر فعال ہو چکے ہیں۔ افغان جریدے ’افغانستان انٹرنیشنل‘ کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان فریڈم فرنٹ، یونائیٹڈ فرنٹ اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے محض اگست کے دوران افغان طالبان کے خلاف کم از کم 50 مسلح کارروائیاں کیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی تازہ رپورٹ نے بھی زمینی حقائق کے برعکس طالبان کے امن کے بیانیے کی نفی کی ہے۔ یو این رپورٹ کے مطابق، رواں سال مئی سے جولائی کے دوران ملک بھر میں سیکیورٹی سے متعلق 2 ہزار 947 واقعات پیش آئے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں سرگرم 14 مسلح اپوزیشن گروہوں نے ملک کے 21 صوبوں میں 88 بڑے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
علاقائی امور پر نظر رکھنے والے جریدے ’دی ٹائمز آف سینٹرل ایشیا‘ کے مطابق، افغانستان کی سرزمین سے پیدا ہونے والے دہشت گردی اور دراندازی کے بڑھتے خدشات نے خطے کو الرٹ کر دیا ہے۔ تاجکستان سمیت اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم (سی ایس ٹی او) کے رکن ممالک نے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر مشترکہ جنگی مشقیں ’روبیژ 2026‘ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔