پاکستان میں بجلی مہنگی ہونے کی ایک بڑی وجہ توانائی کے شعبے میں موجود ساختی مسائل اور درآمدی ایندھن پر انحصار بھی ہے
او سی
پاکستان میں بجلی مہنگی ہونے کی ایک بڑی وجہ توانائی کے شعبے میں موجود ساختی مسائل اور درآمدی ایندھن پر انحصار بھی ہے، لیکن کیا بجلی کی پیداوار کے ذرائع تبدیل کرکے اور گھروں میں توانائی کی بچت اپنا کر اس بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے؟ لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کی نئی تحقیق میں ایسے اقدامات سامنے آئے ہیں جن پر عمل درآمد سے اربوں ڈالر کی بچت اور بجلی کی طلب میں نمایاں کمی ممکن ہے....میاں امتیاز کی رپورٹ
وی او
پاکستان کے توانائی شعبے کو درپیش چیلنجز اور ان کے ممکنہ حل پر لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے اسلام آباد میں اعلی سطح میڈیا ڈائیلاگ ہوا جس میں ماہرین نے تحقیق کے نتائج اور تجاویز پیش کیں
منٹاج
تحقیق کے مطابق بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر نظرثانی اور کم لاگت ذرائع کو ترجیح دینے سے 17 ارب ڈالر تک بچائے جا سکتے ہیں، جبکہ گھروں میں توانائی کی بچت کے اقدامات سے بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب میں 3 ہزار میگاواٹ کمی اور سالانہ 442 ارب 60 کروڑ روپے کی بچت ممکن ہے۔چیئرمین نیشنل گرڈ پاکستان فیاض احمد چوہدری کے مطابق گھروں کو توانائی کے لحاظ سے مؤثر بنانے سے قومی معیشت کو تقریباً 450 ارب روپے کا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
ساٹ(ڈاکٹر فیاض چودھری)
ملک میں سولر توانائی کے بڑھتے استعمال کے ساتھ بیٹری اسٹوریج بھی توانائی کے نظام میں اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ ایم ڈی نیشنل گرڈ پاکستان انجینئر الطاف حسین ملک کا کہنا ہے کہ سولر کے بعد اب بیٹریوں کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
ساٹ(ایم ڈی الطاف ملک )
بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام میں استعمال ہونے والے 1.1 ٹریلین روپے مالیت کے آلات مقامی طور پر تیار کیے جا سکتے ہیں، جبکہ 2031 تک بیٹری اسٹوریج کی طلب 45 سے 50 گیگا واٹ آور تک پہنچنے کا امکان ہے۔تاہم مقامی سطح پر بجلی کے آلات کی تیاری کے لیے پالیسی کا فقدان ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ پروگرام لیڈ لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ فیصل جاوید مغل کے مطابق پاور سیکٹر میں تاحال کوئی منظور شدہ مقامی تیاری کی پالیسی موجود نہیں۔
ساٹ(فیصل جاوید مغل)
راؤنڈ ٹیبل میں توانائی کے ماہرین اور سینئر صحافیوں نے شرکت کی۔ شرکاء کے مطابق تحقیق میں پیش کی گئی تجاویز کو عملی پالیسی اور سرمایہ کاری میں تبدیل کرنا پاکستان کے توانائی مستقبل کے لیے اہم ہوگا۔۔