امریکی ریاست انڈیانا میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے پولنگ کا آغاز، ہزاروں سکھ شریک

امریکی ریاست انڈیانا میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے پولنگ کا آغاز، ہزاروں سکھ شریک

Aug 17, 2026|ویب ڈیسک

انڈیاناپولس: امریکی ریاست انڈیانا کے دارالحکومت انڈیاناپولس میں آزاد سکھ وطن کے قیام کے لیے خالصتان ریفرنڈم کے تحت ووٹنگ کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ سکھز فار جسٹس (SFJ) کے زیرِ اہتمام منعقدہ اس پولنگ میں سکھ برادری کی بڑی تعداد شرکت کر رہی ہے। ووٹنگ کا عمل مقامی وقت کے مطابق صبح 9:00 بجے شروع ہوا جو بلا تعطل شام تک جاری رہے گا। 

سکھز فار جسٹس کی عالمی مہم اور انتظامی انتظامات

• عالمی تحریک کا تسلسل: یہ پولنگ سکھز فار جسٹس کی دنیا بھر میں جاری مہم کا حصہ ہے، جس کی قیادت کونسل جنرل گورپت ونت سنگھ پنوں کر رہے ہیں۔ 

• عوامی گہما گہمی: انڈیاناپولس کے ڈاؤن ٹاؤن اور پولنگ سینٹرز کے اطراف خالصتان کے پرچم اور بینرز آویزاں کیے گئے ہیں۔ 

• سہولیات: مقامی سکھ تنظیموں اور کمیونٹی رضاکاروں نے دور دراز سے آنے والے ووٹرز کے لیے ٹرانسپورٹ، رہنمائی اور دیگر سہولیات فراہم کی ہیں۔ 

امریکی شہروں اور عالمی سطح پر ریفرنڈمز کا ریکارڈ 

یہ امریکہ میں اس سال کا دوسرا بڑا ریفرنڈم ہے، جس سے قبل سیئٹل میں ہزاروں افراد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا تھا۔ عالمی سطح پر اس مہم کے تحت برطانیہ (لندن)، کینیڈا (ٹورنٹو و وینکوور)، اٹلی (روم) اور سوئٹزرلینڈ (جنیوا) میں بھی وسیع پیمانے پر پولنگ ہو چکی ہے۔ 

بھارتی ردعمل اور سفارتی و تزویراتی تناؤ 

بھارتی حکومت ان غیر سرکاری ریفرنڈمز کو ملکی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف قرار دے کر مسلسل مسترد کرتی آئی ہے۔ دوسری جانب: 

• نشانہ بنانے کے الزامات: گورپت ونت سنگھ پنوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ نئی دہلی بیرونِ ملک پُرامن سکھ کارکنوں کو ماورائے عدالت نشانہ بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ 

• سفارتی کشیدگی: کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل اور امریکہ میں مبینہ سازشوں کے بعد سے بھارت اور مغربی دارالحکومتوں کے مابین سفارتی تناؤ بدستور برقرار ہے۔