بلوچستان خبر

پاکستان میں معاشی انقلاب کا آسان فارمولا

پاکستان میں غربت پر بحث اکثر ایک ہی دائرے میں گھومتی رہتی ہے: امداد، سبسڈی، اور نقد رقوم۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ایسے پروگرام لاکھوں خاندانوں کے لیے فوری سہارا بنتے ہیں، خاص طور پر اس معاشی ماحول میں جہاں مہنگائی اور بے روزگاری عام آدمی کی زندگی کو مسلسل دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں۔

لیکن وقت کے ساتھ ایک بنیادی سوال ابھر کر سامنے آتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ کیا صرف امداد کسی ملک کو غربت سے نکال سکتی ہے، یا یہ صرف ایک وقتی سانس لینے کا وقفہ فراہم کرتی ہے؟

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے غربت کو کم کرنے کے بجائے اسے manage کرنا سیکھ لیا ہے۔

پاکستان کے دیہات اس سوال کا سب سے واضح جواب اپنے اندر رکھتے ہیں۔

یہ وہ جگہیں ہیں جہاں اصل پیداوار ہوتی ہے، لیکن اصل value کہیں اور create ہوتی ہے۔ کسان محنت کرتا ہے، فصل اگتی ہے، مال منڈی تک پہنچتا ہے، مگر اس پورے سفر میں سب سے زیادہ فائدہ وہ لوگ اٹھاتے ہیں جو processing، branding اور supply chain کو کنٹرول کرتے ہیں۔

یہی پاکستان کا بنیادی معاشی خلا ہے۔

دیہی پاکستان: ایک خاموش مگر بڑی معیشت

اگر پاکستان کو غور سے دیکھا جائے تو اس کی اصل طاقت شہر نہیں، دیہات ہیں۔ زراعت، لائیو اسٹاک، باغات، شہد، چاول، کھجور اور پھل — یہ سب وہ assets ہیں جن پر ایک بڑی export economy کھڑی ہو سکتی ہے۔

مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اب بھی زیادہ تر خام مال کی معیشت ہیں۔

دنیا آج raw material نہیں خرید رہی، وہ brands خرید رہی ہے۔

بلوچستان کی مثال: کھجور اور زیتون

بلوچستان میں کھجور کی پیداوار کو اگر دیکھا جائے تو یہ کسی بھی بین الاقوامی معیار سے کم نہیں۔ تربت، پنجگور اور مکران کے علاقے ہر سال اعلیٰ معیار کی کھجور پیدا کرتے ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ پیداوار زیادہ تر بغیر value addition کے باہر چلی جاتی ہے۔

اگر اسی پیداوار کو مقامی سطح پر پروسیسنگ، گریڈنگ اور پیکجنگ سے گزارا جائے تو اس کی معاشی قیمت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ دنیا میں یہی کام سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک نے کیا اور اپنی کھجور کو global brand میں بدل دیا۔

اسی بلوچستان میں لورالائی اور دیگر علاقوں کا زیتون ایک اور اہم مثال ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستانی زیتون کے تیل نے معیار کے لحاظ سے بین الاقوامی توجہ حاصل کی ہے۔ یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان میں صلاحیت موجود ہے، صرف نظام اور سمت کی کمی ہے۔

پاکستان کی اصل کمزوری کہاں ہے؟

پاکستان میں مسئلہ پیداوار کا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم پیداوار کو آگے لے جا کر اس کی مکمل معاشی قیمت حاصل نہیں کر پاتے۔

آم، شہد، سیب، چاول، انگور، کھجور — یہ سب مصنوعات پہلے ہی اپنی جگہ مضبوط ہیں۔ لیکن یہ زیادہ تر خام حالت میں فروخت ہوتی ہیں۔ دنیا میں اصل پیسہ وہاں بنتا ہے جہاں:

پیداوار → پروسیسنگ → برانڈنگ → ایکسپورٹ

یہ پورا نظام ایک chain کی صورت میں چلتا ہے۔ پاکستان اس chain کے ابتدائی حصے میں پھنس کر رہ گیا ہے۔

اگر سرمایہ پیداوار میں لگایا جائے تو کیا ہوگا؟

اب ایک عملی پہلو دیکھتے ہیں۔

اگر سالانہ تقریباً 716 ارب روپے کے سماجی تحفظ کے فنڈ کا صرف ایک حصہ بھی دیہی صنعت کاری کی طرف منتقل کیا جائے، تو ایک بالکل مختلف معاشی تصویر سامنے آتی ہے۔

اس سرمایہ سے اندازاً 4,000 سے 5,000 چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی یونٹس قائم کیے جا سکتے ہیں۔ یہ یونٹس فوڈ پروسیسنگ، ڈیری، فروٹ پیکجنگ، شہد، زیتون اور کھجور جیسے شعبوں میں کام کر سکتے ہیں۔

یہاں اصل بات صرف یونٹس کی تعداد نہیں بلکہ ان کا اثر ہے۔

ہر یونٹ اگر اوسطاً 150 سے 200 افراد کو براہ راست روزگار دیتا ہے، تو مجموعی طور پر لاکھوں افراد کو براہ راست روزگار مل سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ٹرانسپورٹ، سپلائی چین، زراعت، پیکجنگ اور برآمدات کے شعبوں میں اس سے کہیں زیادہ بالواسطہ روزگار پیدا ہوتا ہے۔

مجموعی طور پر یہ ماڈل آسانی سے 25 سے 30 لاکھ افراد کے لیے معاشی مواقع پیدا کر سکتا ہے۔

یہ صرف ایک معاشی ہدف نہیں، بلکہ ایک سماجی تبدیلی ہے۔

پانچ سال کا منظرنامہ

اگر یہ ماڈل سنجیدگی سے اپنایا جائے تو پہلے دو سالوں میں ہی ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا ہونا شروع ہو جائیں گے۔ تیسرے اور چوتھے سال میں یہ نیٹ ورک وسیع ہو کر دیہی معیشت کا بنیادی ڈھانچہ بن سکتا ہے۔ پانچ سال کے اندر اندر پاکستان میں لاکھوں افراد مستقل روزگار کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔

یہ تبدیلی صرف آمدنی نہیں بڑھائے گی بلکہ دیہات سے شہروں کی طرف ہجرت بھی کم کرے گی۔

اصل تبدیلی کیا ہے؟

یہ بحث صرف فیکٹریوں کی نہیں ہے۔ یہ ایک ذہنیت کی تبدیلی ہے۔

ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ایک ایسی معیشت چاہتے ہیں جو صرف امداد پر چلتی رہے یا ایک ایسی معیشت جو خود اپنے لیے روزگار پیدا کرے۔

دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں نے یہی راستہ اختیار کیا ہے۔ جنوبی کوریا، چین، ویتنام اور ملائیشیا نے دیہی صنعت کاری کو اپنی ترقی کی بنیاد بنایا۔ انہوں نے زرعی پیداوار کو value-added exports میں بدلا اور کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکال دیا۔

نتیجہ

ریاست کی کامیابی اس بات سے نہیں کہ وہ کتنے لوگوں کو سہارا دیتی ہے، بلکہ اس سے ہے کہ وہ کتنے لوگوں کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔

پاکستان کے دیہات کسی مسئلے کا نام نہیں، بلکہ ایک حل ہیں جو ابھی تک مکمل طور پر استعمال نہیں ہوا۔

اگر ہم امداد کے دائرے سے نکل کر پیداوار، ویلیو ایڈیشن اور برانڈنگ کی طرف آ جائیں تو پاکستان نہ صرف غربت کو کم کر سکتا ہے بلکہ ایک مضبوط، خود کفیل اور برآمدی معیشت بھی بن سکتا ہے۔

اور شاید یہی وہ اصل تبدیلی ہوگی جس کے بعد ہم غربت کو صرف manage

آصف جون

تحریر

آصف جون