چینی مارکیٹ میں پاکستانی سی فوڈ کی برآمدات 220 ملین ڈالرز تک پہنچ گئیں
چینی مارکیٹ میں پاکستانی سی فوڈ کی برآمدات 220 ملین ڈالرز تک پہنچ گئیں
اسلام آباد: چین پاکستان آزاد تجارتی معاہدے (CPFTA) کی ترجیحی مراعات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے تحت چینی منڈی میں پاکستانی سمندری خوراک کی طلب میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سال 2026 کے ابتدائی سات ماہ (جنوری تا جولائی) کے دوران چین کو پاکستانی سی فوڈ کی برآمدات میں 41 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے مجموعی برآمدی حجم 156 ملین ڈالر سے بڑھ کر 220 ملین ڈالر تک جا پہنچا ہے۔
لیدی برآمدی مصنوعات اور ریونیو کی تقسیم
جنوری سے جولائی کے دوران مختلف کیٹیگریز کی سمندری مصنوعات کی ترسیل میں تیزی سے اضافہ ہوا:
اہم کیٹیگریز: فروزن فش، کٹل فش اور اسکویڈ کی برآمدات سرِ فہرست رہیں، جن سے مجموعی طور پر 76.43 ملین ڈالر کی زرمبادلہ آمدن حاصل ہوئی۔
اہم چینی صوبائی منڈیاں: پاکستانی مصنوعات کی کھپت چین کے بڑے ساحلی اور تجارتی صوبوں—فوجیان، گوانگ ڈونگ، شاندونگ اور ژی جیانگ—میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
رجسٹرڈ برآمد کنندگان کی تعداد: بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے تقریباً 200 پاکستانی سی فوڈ برآمد کنندگان نے چینی کسٹمز کے ساتھ باضابطہ رجسٹریشن مکمل کر لی ہے۔
آزاد تجارتی معاہدہ اور ملکی برآمدات کا تنوع
معاشی ماہرین کے مطابق پاک چین آزاد تجارتی معاہدے کے تحت حاصل ہونے والی صفر ٹیرف اور ترجیحی مارکیٹ رسائی نے پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے مسابقتی ماحول پیدا کیا ہے۔ سمندری خوراک کا شعبہ روایتی ٹیکسٹائل سے ہٹ کر ملکی برآمدات کو متنوع بنانے، ساحلی معیشت میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور دوطرفہ تجارتی حجم کو متوازن کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔