سعودی عرب اور فرانس کے درمیان سرمایہ کاری شراکت داری میں مزید گہرائی، وژن 2030 سے نئے مواقع پیدا

سعودی عرب اور فرانس کے درمیان سرمایہ کاری شراکت داری میں مزید گہرائی، وژن 2030 سے نئے مواقع پیدا

Aug 25, 2026|ویب ڈیسک

پیرس، 24 اگست 2026: سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے دورۂ فرانس کے موقع پر پیرس میں فرانسیسی-سعودی سرمایہ کاری گول میز اجلاس منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام، کاروباری شخصیات اور بڑی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز نے شرکت کی۔ اجلاس میں سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع کا جائزہ لیا گیا۔

سعودی وزیر سرمایہ کاری فہد بن عبدالجلیل السیف نے کہا کہ سعودی عرب اور فرانس کے درمیان ایک صدی پر محیط تعلقات اقتصادی اور سرمایہ کاری تعاون کے نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی، صنعت، مالیات اور جدت کے شعبوں میں فرانسیسی مہارت اور سعودی عرب کے وژن 2030 کے اہداف دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 2024 میں سعودی عرب میں فرانسیسی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم 16.3 ارب یورو تک پہنچ گیا، جو پانچ سال کے دوران دوگنا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ فرانس سعودی عرب میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا چوتھا بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔ فرانسیسی سرمایہ کار اس وقت 18 شعبوں میں 650 سے زائد سرمایہ کاری لائسنس رکھتے ہیں۔

سعودی وزیر کے مطابق وژن 2030 کے تحت سعودی عرب دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی جی 20 معیشتوں میں شامل ہو گیا ہے۔ 2017 کے بعد سے ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 85 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ غیر تیل شعبوں کا ملکی جی ڈی پی میں حصہ نصف سے تجاوز کر چکا ہے۔ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد تقریباً 6.1 ارب یورو رہی، جو سالانہ بنیاد پر 2.4 فیصد زیادہ ہے۔

انہوں نے توانائی، مالیاتی خدمات، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، جدید مینوفیکچرنگ، ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس، گیمنگ اور سیاحت کو فرانسیسی سرمایہ کاروں کے لیے اہم مواقع رکھنے والے شعبے قرار دیا۔

فہد السیف نے روایتی توانائی، پیٹروکیمیکل اور صاف توانائی کے شعبوں میں بھی بڑھتے ہوئے تعاون کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق فرانسیسی کمپنیاں سعودی عرب کی قابلِ تجدید توانائی اور متعلقہ ٹیکنالوجیز کی جانب منتقلی میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔

مالیاتی شعبے کو بھی دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا اہم میدان قرار دیا گیا۔ سعودی وزیر نے کہا کہ مملکت اپنے مالیاتی نظام کو مزید وسعت دینے اور گہرا کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے سعودی ایکسچینج کو مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ فعال اسٹاک مارکیٹ قرار دیا۔

سعودی عرب کے تیزی سے ترقی کرتے گیمنگ اور ای اسپورٹس شعبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوان اور بھرپور دلچسپی رکھنے والی سعودی مارکیٹ میں دانشورانہ ملکیت کی ترقی، مواد کی تیاری، خصوصی روزگار اور عالمی سطح پر مسابقتی کمپنیوں کے قیام کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

انہوں نے ریجنل ہیڈکوارٹرز پروگرام کا بھی ذکر کیا، جس کے تحت 750 سے زائد کمپنیوں نے سعودی عرب میں اپنے علاقائی ہیڈکوارٹرز قائم کیے ہیں، جن میں 39 فرانسیسی کمپنیاں بھی شامل ہیں جو آٹھ مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق سعودی کابینہ کی جانب سے آف شور مالیاتی سرگرمیوں کی حالیہ منظوری مملکت کو بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے علاقائی مرکز کے طور پر مزید مضبوط کرے گی۔

فرانس کے وزیر اقتصادیات و خزانہ رولان لیسکیور نے سعودی-فرانسیسی تعلقات کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیتے ہوئے توانائی اور لاجسٹکس سیکیورٹی کو دونوں ممالک کی شراکت داری کے اہم ستون قرار دیا۔

انہوں نے سعودی عرب کو عالمی توانائی مارکیٹ کے استحکام میں قابلِ اعتماد شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ مملکت مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان توانائی اور لاجسٹکس کے حوالے سے ایک اہم رابطہ بن چکی ہے۔

رولان لیسکیور نے سعودی وژن 2030 اور فرانس 2030 کے درمیان مطابقت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ سعودی عرب میں فرانسیسی کمپنیوں کی موجودگی محض مصنوعات کی فروخت تک محدود نہیں رہی بلکہ مشترکہ پیداوار اور صنعتی تعاون کی جانب بڑھ رہی ہے۔

گول میز اجلاس میں "سعودی عرب اور فرانس: مستقبل کے لیے شراکت داری" کے عنوان سے ایک خصوصی نشست بھی ہوئی، جس میں نجی شعبے کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کاروباری رہنماؤں نے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی معاونت، صنعتی شراکت داری کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے، ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس نیٹ ورکس کو فروغ دینے اور مصنوعی ذہانت و ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے ذریعے ڈیجیٹل مستقبل کی تعمیر پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔

اجلاس میں سعودی عرب اور فرانس کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 44.2 ارب سعودی ریال تک پہنچ گئی۔ 2024 میں سعودی عرب میں فرانسیسی براہِ راست سرمایہ کاری کا حجم 63.9 ارب سعودی ریال رہا، جو 2021 کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔

سعودی وژن 2030 کے آخری مرحلے میں داخل ہونے کے ساتھ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ سعودی عرب کی اقتصادی تبدیلی میں فرانسیسی کمپنیوں کی شرکت کے مزید مواقع پیدا ہو رہے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے کاروباری ادارے توانائی، ٹیکنالوجی، صنعت، مالیات، لاجسٹکس، سیاحت اور دیگر اسٹریٹجک شعبوں میں طویل المدتی اور اعلیٰ قدر کی سرمایہ کاری شراکت داریاں قائم کر سکتے ہیں۔