ہندوتوا انتہا پسندی پر امریکی رپورٹ؛ بھارت کو خصوصی تشویش کا ملک قرار دینے کا مطالبہ
ہندوتوا انتہا پسندی پر امریکی رپورٹ؛ بھارت کو خصوصی تشویش کا ملک قرار دینے کا مطالبہ
واشنگٹن: بھارت میں ہندوتوا نظریے کے فروغ اور اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات پر امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور بھارتی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کمیشن نے آر ایس ایس قیادت کے دورۂ امریکہ پر شدید اعتراضات عائد کرتے ہوئے سال 2026 کی اپنی جائزہ رپورٹ میں بھارت کو مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں پر ’’خصوصی تشویش کا ملک‘‘ (Country of Particular Concern) قرار دینے کی سفارش دہرا دی ہے۔ مذہبی اقلیتوں اور عبادت گاہوں پر منظم حملے
امریکی کمیشن کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت میں انتہا پسند تنظیمیں ریاستی سرپرستی میں بنیادی انسانی حقوق کو پامال کر رہی ہیں:
اقلیتوں کو نشانہ بنانا: آر ایس ایس سے وابستہ تنظیموں کی جانب سے مسلمانوں، عیسائیوں، دلتوں اور سکھوں کے خلاف پرتشدد حملوں اور امتیازی سلوک میں اضافہ ہوا ہے۔
عبادت گاہوں کی بے حرمتی: نام نہاد مذہبی قوانین اور پالیسیوں کی آڑ میں اقلیتوں کی املاک اور عبادت گاہوں کو انتہا پسند ہجوموں کے ذریعے منظم طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بیرونِ ملک ٹارگٹ کلنگ: رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومتی عناصر بیرونِ ملک، بالخصوص شمالی امریکہ میں سکھ کمیونٹی کے قتل اور اقدامِ قتل جیسے سنگین جرائم میں ملوث رہے ہیں۔
عدم احتساب اور ریاستی سرپرستی پر امریکی حکام کے خدشات
یو ایس کمیشن کے چیئرمین آصف محمود نے واضح کیا کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد اور اشتعال انگیزی کا استعمال تسلسل سے جاری ہے۔
کمیشن کی وائس چیئرمین سیس ہیِل کا کہنا تھا کہ بھارت میں انتہا پسند عناصر کے خلاف قانونی کارروائی اور احتساب کا مکمل فقدان ہے، جس کے باعث مذہبی منافرت پھیلانے والے گروہوں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔