پاکستانی بندرگاہوں کی بہتری کے لیے 85 اہم اصلاحات نافذ، کسٹمز کا نظام ڈیجیٹلائز

پاکستانی بندرگاہوں کی بہتری کے لیے 85 اہم اصلاحات نافذ، کسٹمز کا نظام ڈیجیٹلائز

Aug 28, 2026|ویب ڈیسک

پاکستانی بندرگاہوں کی بہتری کے لیے 85 اہم اصلاحات نافذ، کسٹمز کا نظام ڈیجیٹلائز

​اسلام آباد: ملکی تجارتی حجم بڑھانے، ترسیل کی لاگت میں کمی اور سمندری راستوں سے سامان کی تیز رفتار نقل و حمل کے لیے تجویز کردہ جامع روڈ میپ کے تحت 99 میں سے 85 عملی اصلاحات پر عملدرآمد مکمل کر لیا گیا ہے۔ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد کارگو ہینڈلنگ، پورٹ آپریشنز اور کسٹمز کلیئرنس کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

​ فیس لیس کسٹمز اور آٹومیٹڈ ڈیوٹی ڈرا بیک کا نفاذ

​بندرگاہی نظام میں شفافیت لانے اور روایتی کاغذی کارروائی کو ختم کرنے کے لیے ڈیجیٹل میکانزم فعال کیا گیا ہے:

​فیس لیس کسٹمز سسٹم: انسانی مداخلت کو کم سے کم کر کے پورٹ کلیئرنس کے عمل کو تیز اور شفاف بنا دیا گیا ہے۔

​خودکار ڈیوٹی ڈرا بیک: ایکسپورٹرز کے لیے 'آٹومیٹڈ ڈیوٹی ڈرا بیک پروسیسنگ' کے ذریعے ریفنڈز کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی گئی ہے۔

​آپریشنل شفافیت: ڈیجیٹل اسکیننگ اور آن لائن ٹریکنگ کے ذریعے بدعنوانی کے امکانات کا خاتمہ کیا گیا ہے۔

​کنٹینر ٹریفک مینجمنٹ اور ڈریجنگ آپریشنز

​بندرگاہوں پر تجارتی دباؤ اور جہازوں کی طویل بندش کے مسائل حل کرنے کے لیے انفراسٹرکچر سطح پر فوری اقدامات کیے گئے ہیں:

​بھیڑ میں نمایاں کمی: ٹرمینلز سے 2 ہزار سے زائد کنٹینرز فوری طور پر آف ڈاک ٹرمینلز پر منتقل کیے گئے تاکہ آپریشنل جگہ بحال ہو سکے۔

​ڈریجنگ کی بحالی: بڑے بحری جہازوں کی آسان اور محفوظ لنگر اندازی یقینی بنانے کے لیے نیویگیشن چینلز کی باقاعدہ ڈریجنگ مکمل کی گئی۔

​حکام کے مطابق باقی ماندہ 14 تجاویز پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے، جس سے پاکستان کے پورٹ سیکٹر کی عالمی مسابقت میں مزید اضافہ ہوگا۔