1965 کی جنگ کے غازی سپاہی مقبول حسین کی 8ویں برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی
1965 کی جنگ کے غازی سپاہی مقبول حسین کی 8ویں برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی
راولپنڈی: مادرِ وطن کے دفاع، لازوال وفاداری اور بے مثال عزم و استقامت کی روشن مثال قائم کرنے والے پاک فوج کے بہادر سپوت سپاہی مقبول حسین کی 8ویں برسی آج ملک بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ سپاہی مقبول حسین کی زندگی جرات، استقامت اور حب الوطنی کی وہ داستان ہے جس نے تاریخ میں قربانی کے نئے نقوش رقم کیے۔
تراڑکھل سے محاذِ جنگ تک؛ 4 آزاد کشمیر رجمنٹ کا بہادر سپوت
آزاد کشمیر کے علاقے تراڑکھل سے تعلق رکھنے والے سپاہی مقبول حسین نے پاک فوج کی مایہ ناز 4 آزاد کشمیر رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی اور ملک کے دفاع کے لیے ہمہ وقت صفِ اول میں رہے۔
1965 کی جنگ میں بے باک کردار: 1965 کے معرکے میں سپاہی مقبول حسین نے محاذ پر غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے عزائم کو خاک میں ملاتے ہوئے شدید زخمی حالت میں قیدی بنے۔
چار دہائیوں پر محیط کڑی قید: انہوں نے تقریباً 40 برس بھارتی جیلوں کی تاریک کوٹھریوں میں بدترین جسمانی و ذہنی تشدد کے سائے میں گزارے، لیکن زبان سے کلمہِ حق اور مادرِ وطن کی محبت کو کبھی جدا نہ ہونے دیا۔
2005 میں وطن واپسی اور ابدی سفر
طویل قید اور بے پناہ جبر کے باوجود غیر متزلزل رہنے والے سپاہی مقبول حسین بالآخر 17 ستمبر 2005 کو واہگہ بارڈر کے راستے واپس اپنے وطن پہنچے، جہاں ان کا قومی ہیرو کے طور پر تاریخی استقبال کیا گیا۔
قومی دفاع کی علامت بننے والے یہ عظیم غازی 28 اگست 2018 کو خالقِ حقیقی سے جا ملے تھے۔ ان کی قربانی اور فولادی عزم آج بھی پاک فوج کے جوانوں اور پوری قوم کے لیے مشعلِ راہ ہے۔