چین کا ایران کے ساتھ قانونی تعاون میں بیرونی مداخلت مسترد کرنے کا اعلان
بیجنگ نے ایران کے ساتھ جاری دوطرفہ تعاون کے خلاف کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات عالمی قوانین کے عین مطابق ہیں اور انہیں کسی صورت روکا نہیں جانا چاہیے۔
بیجنگ اور تہران کے درمیان معمول کی شراکت داری جاری رہے گی: چینی وزارتِ خارجہ
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے میڈیا بریفنگ کے دوران حالیہ علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ خودمختار ریاستوں کے مابین جائز اقتصادی اور سفارتی روابط کا احترام لازمی ہے۔ بیجنگ انتظامیہ خطے میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔
پریس بریفنگ کے اہم ترین نکات
عالمی قوانین کی پاسداری: چین اور ایران کے مابین تمام تر اقتصادی و تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں قائم ہیں۔
تعاون کے تسلسل کا عزم: چینی حکام کے مطابق دوطرفہ تزویراتی و تجارتی روابط کسی دباؤ پر معطل یا متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔
صورتحال پر مسلسل نظر: چینی وزارتِ خارجہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ کی تازہ ترین پیش رفت پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہے۔
قومی مفادات کا تحفظ: چین نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اپنے قانونی حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔