طالبان کے پانچ سالہ دور میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں، عالمی تشویش برقرار

طالبان کے پانچ سالہ دور میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں، عالمی تشویش برقرار

Aug 28, 2026|ویب ڈیسک

طالبان کے پانچ سالہ دور میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں، عالمی تشویش برقرار

​کابل: افغانستان میں طالبان رجیم کے زیر سایہ خواتین پر عائد غیر قانونی پابندیوں، بنیادی شہری آزادیوں کی معطلی اور انسانی حقوق کی منظم پامالیوں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر صدائے احتجاج بلند کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے طالبان کے پانچ سالہ اقتدار کو ملک کی جدید تاریخ کا تاریک ترین دور قرار دیا ہے۔

​ خواتین کے حقوق کی سلب اور تاریک دور کی واپسی: رائن کروکر

​افغانستان میں تعینات رہنے والے سابق امریکی سفیر رائن کروکر نے طالبان انتظامیہ کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ رجیم ملک کو دانستہ طور پر تنہائی اور پسپائی کی جانب دھکیل رہا ہے۔

​تعلیم اور روزگار پر پابندی: طالبان نے منظم منصوبے کے تحت لڑکیوں سے اعلیٰ تعلیم کا حق اور خواتین سے روزگار کے بنیادی مواقع چھین لیے ہیں۔

​مردانہ بالادستی کا جبر: اقتدار کو مردانہ بالادستی اور امیر کے جابرانہ فرمانوں پر مبنی فرسودہ نظام کے تحت چلایا جا رہا ہے۔

​عالمی سلامتی پر اثرات: افغانستان کے موجودہ داخلی حالات محض ایک ملکی مسئلہ نہیں بلکہ براہ راست علاقائی استحکام اور عالمی سلامتی پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

​ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ اور عالمی برادری کا ردعمل

​رواں ماہ بین الاقوامی ادارے ہیومن رائٹس واچ (Human Rights Watch) کی جانب سے جاری کردہ جامع جائزے میں بھی افغان طالبان کے دورِ اقتدار کو انسانی حقوق کا بدترین بحران قرار دیا گیا ہے۔

​عالمی سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پے در پے سامنے آنے والی معتبر رپورٹس اور بیانات اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ طالبان انتظامیہ کا رویہ بین الاقوامی قوانین اور بنیادی انسانی اقدار کے یکسر منافی ہے۔