پاکستانی کھجور کی عالمی منڈیوں تک رسائی، برآمدات میں تاریخی اضافہ
پاکستانی کھجور کی عالمی منڈیوں تک رسائی، برآمدات میں تاریخی اضافہ
اسلام آباد: خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کی موثر حکمت عملی اور سہولت کاری کے نتیجے میں پاکستان کا برآمدی نظام تیزی سے مستحکم ہو رہا ہے۔ ملک میں پیدا ہونے والی اعلیٰ معیار کی کھجوریں اپنی غیر معمولی مٹھاس اور متنوع اقسام کے باعث بین الاقوامی خریداروں کی خصوصی توجہ حاصل کر رہی ہیں، جس سے ملکی زرعی معیشت اور کسانوں کی خوشحالی کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
علاقائی زرعی تنوع اور عالمی طلب کا نیا منظرنامہ
پاکستان کے چاروں صوبے زرعی تنوع کے لحاظ سے زرخیز ہیں، جہاں کی جغرافیائی خصوصیات کھجور کی کاشت کے لیے نہایت سازگار ہیں۔ جدید پیداواری معیارات اور عالمی فوڈ سیفٹی پروٹوکولز پر عملدرآمد کے باعث ملکی کھجوریں خلیجی، یورپی اور دیگر بین الاقوامی مارکیٹوں میں تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں مقبول پاکستانی اقسام
عسیل اور ڈھکی: خیرپور (سندھ) کی مشہور عسیل اور ڈیرہ اسماعیل خان کی ڈھکی کھجوریں غیر ملکی منڈیوں میں غیر معمولی طلب رکھتی ہیں۔
بلوچستان کی پہچان: پنجگور اور مکران کی بیگم جنگی اور مزواتی اقسام اپنے ذائقے، نرمی اور غذائیت کی بدولت خاص شہرت رکھتی ہیں۔
کُپرو کھجور: تجارتی پیمانے پر پروسیسنگ اور طویل مدتی استعمال کے لیے بین الاقوامی خریداروں کی ترجیح شمار ہوتی ہے۔
ایس آئی ایف سی اور برآمدی ایکو سسٹم کی جدید تشکیل
ایس آئی ایف سی کے تعاون سے ویلیو ایڈیشن، جدید پیکیجنگ اور سپلائی چین کو بین الاقوامی اصولوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔ کونسل کے اقدامات سے بیوروکریٹک رکاوٹوں کا خاتمہ ممکن ہوا ہے، جس سے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ برآمدات کے اس تسلسل نے دیہی معیشت کو مستحکم کرتے ہوئے مقامی کسانوں اور پروسیسنگ ورکرز کی آمدنی میں براہِ راست اضافہ کیا ہے