وزیراعظم بحری ٹاسک فورس: ملکی بندرگاہیں جدید ڈیجیٹلائزیشن کے نئے دور میں داخل

وزیراعظم بحری ٹاسک فورس: ملکی بندرگاہیں جدید ڈیجیٹلائزیشن کے نئے دور میں داخل

Sep 4, 2026|ویب ڈیسک

وزیراعظم بحری ٹاسک فورس: ملکی بندرگاہیں جدید ڈیجیٹلائزیشن کے نئے دور میں داخل

​اسلام آباد: ملکی تجارتی حجم بڑھانے اور بندرگاہوں کی آپریشنل صلاحیت کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت جامع اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ بندرگاہی تاریخ میں پہلی بار کسٹمز عمل کو ڈیجیٹلائز کرتے ہوئے شفافیت اور تیز رفتار ہینڈلنگ کو یقینی بنایا گیا ہے، جس سے شپنگ لاگت اور وقت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

​ نیشنل پورٹس ماسٹر پلان اور یکساں ٹیرف کا نفاذ

​بحری تجارت کے استحکام کے لیے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار باقاعدہ 'نیشنل پورٹس ماسٹر پلان' تیار کیا گیا ہے۔ اس حکمتِ عملی کے نفاذ سے تمام قومی بندرگاہوں پر یکساں پورٹ ٹیرف کا نظام قائم کیا گیا ہے، جس نے نجی آپریٹرز اور بین الاقوامی لائنرز کے درمیان مسابقت اور کاروباری شفافیت کو فروغ دیا ہے۔

​ کراچی پورٹ کی استعداد کار میں اضافہ

​جدید کارگو مینجمنٹ سسٹم: کراچی پورٹ پر کارگو ہینڈلنگ اور برتھنگ گنجائش کو بین الاقوامی ضوابط کے تحت جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔

​مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم: کسٹمز، بینکنگ چینلز اور پورٹ آپریٹرز کو ایک ہی سینٹرلائزڈ نیٹ ورک پر منسلک کر کے روایتی دفتری کارروائی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

​ فیس لیس کسٹمز اور کارگو کلیئرنس میں تاریخی کمی

​کاروباری آسانیوں (Ease of Doing Business) کو فروغ دینے کے لیے 'پاکستان سنگل ونڈو' اور 'فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ' کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس نے انسانی مداخلت اور بدعنوانی کے امکانات کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔

ڈیجیٹل اصلاحات کے نمایاں ثمرات

​کلیئرنس دورانیہ میں واضح کمی: پورٹ کلیئرنس کا اوسط وقت 53 گھنٹوں سے گھٹ کر صرف 18 گھنٹے پر آگیا ہے۔

​محفوظ اسیسمنٹ ماحول: اسیسمنٹ افسران کو محفوظ کلاؤڈ اور ڈیجیٹل ورک اسپیس فراہم کی گئی ہے، جس سے کیسز کا تیز رفتار تجزیہ ممکن ہوا ہے۔

​عالمی تجارتی روابط: تیز رفتار ہینڈلنگ اور پیپرلیس ٹریڈ نے پاکستان کو خطے میں ایک قابلِ اعتماد سپلائی چین حب کے طور پر متعارف کرایا ہے۔