جامع مالیاتی شمولیت سے معاشی مواقع، سرمایہ کاری اور ترقی کا نیا سفر شروع

جامع مالیاتی شمولیت سے معاشی مواقع، سرمایہ کاری اور ترقی کا نیا سفر شروع

Aug 31, 2026|ویب ڈیسک

​اسلام آباد: وزارتِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ ملک میں جامع مالیاتی شمولیت (Financial Inclusion) کے فروغ سے سرمایہ کاری، تجارتی سرگرمیوں اور پائیدار معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ حکومت مالیاتی نظام کے ذریعے سرمایہ کو غیر پیداواری شعبوں سے نکال کر زراعت، برآمدات، چھوٹے کاروباروں اور جدید ٹیکنالوجی کی جانب منتقل کر رہی ہے۔

​ہاؤسنگ، زراعت اور ایس ایم ایز کے لیے تاریخی فنانسنگ

​مشیر خزانہ نے واضح کیا کہ روایتی ضمانتی نظام سے ہٹ کر جدید کریڈٹ اسکورنگ ماڈلز متعارف کرائے گئے ہیں، جس سے قرضوں کا حصول آسان ہو گیا ہے۔

​کلیدی شعبوں کی کارکردگی اور اعداد و شمار:

​ہاؤسنگ فنانس (اپنا گھر پروگرام): اسکیم کے تحت درخواستوں میں 84 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ اب تک منظور شدہ فنانسنگ کا حجم تقریباً 280 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔

​ایس ایم ای سیکٹر: ملک بھر میں تقریباً 3 لاکھ 30 ہزار چھوٹی و درمیانی صنعتوں (SMEs) کو 1.05 ٹریلین روپے کی رسمی فنانسنگ فراہم کی گئی ہے، جس سے کاروباری توسیع ممکن ہوئی ہے۔

​زرعی شعبے کی بحالی: کسانوں اور چھوٹے کاشتکاروں کے لیے قرضوں کی آسان دستیابی نے دیہی معیشت کو مضبوط بنیادیں فراہم کی ہیں۔

​گرین فنانس اور ای وی سیکٹر: ماحولیاتی بہتری کے اقدامات کے تحت الیکٹرک وہیکلز (EVs) کے شعبے میں قرضوں کی فراہمی اور گاڑیوں کی ترسیل میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

​مالیاتی شمولیت کو برآمدات اور پیداوار سے جوڑنے کا عزم

​خرم شہزاد کے مطابق، مالی سہولیات کو براہِ راست ملکی پیداوار، برآمدات اور مسابقت سے جوڑا جا رہا ہے تاکہ معیشت بیرونی قرضوں پر انحصار کم کر کے خود انحصاری اور پائیدار استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔