جولائی 2026: ترسیلات، ذخائر اور ٹیکس وصولیوں میں ریکارڈ اضافہ، معیشت مستحکم
جولائی 2026: ترسیلات، ذخائر اور ٹیکس وصولیوں میں ریکارڈ اضافہ، معیشت مستحکم
اسلام آباد: مالی سال کے پہلے ماہ جولائی 2026 کے معاشی اعداد و شمار نے ملکی معیشت کے استحکام، مالی نظم و ضبط اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی واضح بحالی کی تصدیق کر دی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر، اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر، کرنٹ اکاؤنٹ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی ٹیکس وصولیوں میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔
بیرونی شعبے میں نمایاں بہتری اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی
اسٹیٹ بینک اور وزارتِ خزانہ کے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق بیرونی کھاتوں پر دباؤ میں واضح کمی واقع ہوئی ہے، جس سے ادائیگیوں کا توازن بہتر ہوا ہے۔
اہم معاشی اعداد و شمار پر ایک نظر:
ترسیلاتِ زر کا ریکارڈ: جولائی 2026 میں سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی رقوم کا حجم بڑھ کر 3.63 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
زرمبادلہ ذخائر: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا اور یہ سطح 17.08 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی۔
کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ: کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں سال بہ سال کی بنیاد پر 38 فیصد کمی دیکھی گئی، جو سکڑ کر 328 ملین ڈالر کی سطح پر آ گیا۔
روپے کی قدر میں استحکام: انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے پاکستانی روپے کی قدر مستحکم رہی اور معمولی بہتری برقرار رہی۔
ایف بی آر کی ٹیکس وصولی ہدف سے زائد
مالی نظم و ضبط کے سخت اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جولائی 2026 کے دوران 810 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا، جو مختص کردہ ماہانہ ہدف سے زائد ہے۔
حکومتی پالیسیوں، ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور مضبوط بیرونی پوزیشن کے باعث پاکستان اب پائیدار معاشی نمو اور مستقل مالی استحکام کی راہ پر گامزن دکھائی دیتا ہے۔