پاکستان نے گوادر پورٹ چارجز میں کمی کر دی، بحری تجارت کے فروغ کا فیصلہ

پاکستان نے گوادر پورٹ چارجز میں کمی کر دی، بحری تجارت کے فروغ کا فیصلہ

May 12, 2026|ویب ڈیسک

پاکستان نے گوادر پورٹ چارجز میں کمی کر دی، بحری تجارت کے فروغ کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے بحری تجارت کو فروغ دینے اور بین الاقوامی ٹرانزٹ ٹریفک کو متوجہ کرنے کے لیے گوادر پورٹ کے ٹیرف میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری کے مطابق کنٹینر جہازوں کے برتھنگ چارجز میں 25 فیصد کمی کی گئی ہے، جبکہ بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کنٹینرز پر پورٹ چارجز میں 40 فیصد تک کمی کر دی گئی ہے۔ اسی طرح ٹرانزٹ کنٹینر کارگو پر چارجز بھی 31 فیصد تک کم کر دیے گئے ہیں تاکہ عالمی شپنگ کمپنیوں کو گوادر پورٹ کے استعمال کی طرف راغب کیا جا سکے۔

حکومتی مراعاتی پیکج کے تحت گوادر پورٹ پر جنرل کارگو کے لیے ایک ماہ تک مفت اسٹوریج کی سہولت بھی دی گئی ہے، جبکہ ملک کے دیگر بندرگاہوں پر یہ سہولت صرف پانچ دن تک محدود ہوتی ہے۔

وزیر بحری امور نے کہا کہ یہ اقدامات گوادر کو ایک جدید اور مسابقتی ڈیپ سی پورٹ کے طور پر وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور مشرقی افریقہ کے لیے ایک اہم تجارتی مرکز بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نظرثانی شدہ ٹیرف فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے اور مارکیٹ کے ردعمل اور علاقائی مسابقت کے مطابق اس میں مزید تبدیلی بھی کی جا سکتی ہے۔

گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین نورالحق بلوچ نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ نئی مراعات سے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار متوجہ ہوں گے اور خطے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے تناظر میں گوادر پورٹ کی اسٹریٹجک اہمیت میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ یہ ایران اور وسطی ایشیا کے لیے ایک مختصر اور محفوظ تجارتی راستہ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اپریل میں گوادر پورٹ پر چار بڑے ٹرانس شپمنٹ بحری جہازوں کی آمد کو اس بندرگاہ کے بڑھتے ہوئے کردار کی واضح مثال قرار دیا۔