مودی کے بھارت میں مسلمانوں پر مظالم اور عدم انصاف: ٹی آر ٹی کے انکشافات

مودی کے بھارت میں مسلمانوں پر مظالم اور عدم انصاف: ٹی آر ٹی کے انکشافات

Aug 12, 2026|ویب ڈیسک

نئی دہلی / استنبول — عالمی نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کی ایک تازہ ترین تحقیقی ڈاکیومنٹری نے نریندر مودی کی حکمرانی میں بھارت میں جاری منظم اسلامو فوبیا، مسلم مخالف نفرت اور ریاستی سرپرستی میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کا پردہ چاک کر دیا ہے۔


ڈاکیومنٹری میں قانونی ماہرین، حقوقِ انسانی کے کارکنان اور متاثرین کے بیانات کی روشنی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بھارت میں مسلم ہونا اب ایک جرم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔


ریاستی اداروں کی خاموشی اور پولیس کی ملی بھگت

ڈاکیومنٹری میں بھارتی سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور ممتاز سماجی رہنماؤں نے بھارتی آئینی و قانونی ڈھانچے کے مفلوج ہونے پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں:


اداروں کیجانبداری: بھارتی سپریم کورٹ کے سینئر وکیل سنجے ہیگڑے کے مطابق، بھارت میں ریاستی اداروں کی تمام تر توجہ محض بی جے پی کے سیاسی موقف اور مفادات کے تحفظ پر مرکوز ہو چکی ہے۔


پولیس کی ملی بھگت: سنجے ہیگڑے نے انکشاف کیا کہ اقلیتوں پر تشدد اور نفرت پر مبنی جرائم میں بھارتی پولیس کا کردار اکثر و بیشتر ملزمان کے سہولت کار کا ہوتا ہے۔


انصاف کی عدم فراہمی: معروف سماجی کارکن آصف مجتبیٰ کا کہنا تھا کہ 2020ء کے دل دہلا دینے والے دہلی فسادات کے بعد سے لے کر آج تک کسی بھی معاملے میں مسلم متاثرین کو حقیقی انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔


بجرنگ دل اور زہریلے ہندوتوا نظریے کی ترویج

ڈاکیومنٹری کے مطابق، دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیمیں جیسے 'بجرنگ دل' بھارتی معاشرے میں مسلمانوں کے خلاف باقاعدہ زہر گھول رہی ہیں:


"بھارت میں بالخصوص مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلمان ہونا ایک جرم بن چکا ہے۔ انتہا پسند ہندو تنظیم بجرنگ دل اپنے کیمپوں میں مسلمانوں کو 'قومی دشمن' کے طور پر پیش کرتی ہے اور انہیں بھارتی معاشرے کے لیے نقصان دہ قرار دیتی ہے۔"


— بحوالہ ڈاکیومنٹری رپورٹ، ٹی آر ٹی ورلڈ


متاثرہ مسلم خواتین اور شہریوں نے انکشاف کیا کہ ہندو انتہا پسندوں کے مظالم کے خلاف درخواستیں دینے کے باوجود پولیس اور مودی حکومت کی جانب سے ظالموں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جاتی۔


نمایاں نکات

ریاستی بے حسی: ٹی آر ٹی کی رپورٹ میں بھارت میں اسلامو فوبیا اور اقلیتوں پر مظالم کی سنگین صورتحال کا پردہ چاک۔


عدالتی و قانونی ناکامی: 2020ء کے دہلی فسادات کے متاثرین آج بھی انصاف سے محروم، پولیس پر ملزمان سے ساز باز کا الزام۔


انتہا پسندی کا فروغ: بجرنگ دل جیسے انتہا پسند گروہ تربیتی کیمپوں کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں