پانی روکنا اعلانِ جنگ ہوگا، حرمین شریفین کا تحفظ ریڈ لائن ہے: وزیراعظم

پانی روکنا اعلانِ جنگ ہوگا، حرمین شریفین کا تحفظ ریڈ لائن ہے: وزیراعظم

Sep 26, 2026|ویب ڈیسک

اقوام متحدہ: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے حصے کا پانی روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی بھارتی کوشش کو باقاعدہ جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کے لیے ریڈ لائن ہے، جبکہ کشمیریوں کی مکمل سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت ان کے حقِ خودارادیت کے حصول تک بدستور جاری رہے گی۔

جمعہ کو جنرل اسمبلی سے چوتھی بار خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے محاذ آرائی کے بجائے مکالمے اور جنگ کے بجائے امن کا راستہ چنا ہے، تاہم ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے سورۃ الانفال کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن پاک کا پیغامِ امن پاکستان کی قومی پالیسی کا رہنما اصول ہے۔

وزیراعظم نے بھارتی جارحیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک سال قبل پاکستان نے اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے حقِ دفاع کا مؤثر استعمال کیا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے دشمن کے حملے پسپا کیے۔ انہوں نے دو جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بروقت کردار کو سراہا اور زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے تنازعِ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ناگزیر ہے۔

سندھ طاس معاہدے پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے بھارت کی جانب سے معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو غیرقانونی قرار دیا اور کہا کہ عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ معاہدہ بدستور مؤثر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی۔

خلیجی خطے اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں سے واشنگٹن اور تہران اسلام آباد میں ایک میز پر آئے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بحالی کو عالمی معیشت کے لیے ناگزیر قرار دیا اور مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ حرمین شریفین کی سلامتی پر کسی قسم کا خطرہ قبول نہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ علاقائی امن و استحکام کا ضامن ہے۔

فلسطین کے مسئلے پر وزیراعظم نے غزہ میں معصوم بچوں کے قتلِ عام کو عالمی ضمیر پر فردِ جرم قرار دیتے ہوئے 1967 کی سرحدوں پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ دہرایا جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ انہوں نے لبنان اور شام پر اسرائیلی حملے فوری روکنے پر بھی زور دیا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ذکر کرتے ہوئے شہباز شریف نے بتایا کہ پاکستان نے 1 لاکھ جانوں اور 150 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان اٹھایا۔ انہوں نے کابل حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسی دہشت گرد تنظیموں کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔

وزیراعظم نے بھارت میں ہندوتوا نظریے کے تحت مسلمانوں اور مساجد پر بڑھتے ہوئے حملوں اور دنیا بھر میں اسلاموفوبیا کے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے موسمیاتی انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا عالمی اخراج میں حصہ ایک فیصد سے کم ہے مگر وہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے، اس لیے ترقی یافتہ ممالک اپنے مالی وعدے پورے کریں۔ انہوں نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کو زیادہ جمہوری اور تمام رکن ممالک کے مفادات کا عکاس بنانے پر زور دیا۔