منی پور میں نسلی فسادات کی نئی لہر، مودی سرکار حالات سنبھالنے میں مکمل ناکام

منی پور میں نسلی فسادات کی نئی لہر، مودی سرکار حالات سنبھالنے میں مکمل ناکام

Aug 30, 2026|ویب ڈیسک

منی پور میں نسلی فسادات کی نئی لہر، مودی سرکار حالات سنبھالنے میں مکمل ناکام

​نئی دہلی/امپھال (ویب ڈیسک) — بھارتی ریاست منی پور میں مودی سرکار کی ناقص حکمتِ عملی اور متعصبانہ پالیسیوں کے باعث امن و امان کی صورتحال قابو سے باہر ہو چکی ہے۔ سرکاری سطح پر ہونے والے نام نہاد امن اجلاس کے چوبیس گھنٹے بعد ہی ریاست میں پرتشدد واقعات کی نئی لہر پھوٹ پڑی ہے، جس نے ریاستی اور مرکزی سکیورٹی ڈھانچے کے دعوؤں کا پول کھول دیا ہے۔

بھارتی اخبار 'ٹائمز آف انڈیا' کے ہوشربا انکشافات

​معروف بھارتی جریدے 'ٹائمز آف انڈیا' کی رپورٹ کے مطابق ضلع کانگ پوکپی (Kangpokpi) میں ایک مسلح حملے کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک، ایک شدید زخمی اور ایک شخص لاپتہ ہو گیا۔ ہلاک و زخمی ہونے والے افراد کا تعلق ناگا برادری سے بتایا گیا ہے۔ ادھر ضلع سیناپتی میں کوکی کسانوں پر بھی حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد قبائلی تناؤ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔

​ تنازع کی بگڑتی صورتحال اور اہم نکات

​نازک سکیورٹی ڈھانچہ: امن اجلاس کے فوری بعد ہونے والے اس خونریز حملے نے خطے میں سکیورٹی فورسز کی عدم صلاحیت اور انٹیلی جنس ناکامی کو بے نقاب کر دیا ہے۔

​الجزیرہ کا چونکا دینے والا تجزیہ: عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ منی پور کا بحران اب محض 'میتی اور کوکی' قبائل تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک پیچیدہ اور کثیر الفریقین (Multi-party) مسلح تصادم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

​مودی سرکار کی نااہلی: انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزاد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت کی سیاسی جانبداری نے پرامن خطے کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے۔

​ریاست میں مسلسل جاری خونریزی اور غیر محفوظ شہریوں کی بڑھتی ہوئی اموات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ نئی دہلی کی موجودہ قیادت شمال مشرقی ریاستوں میں دیرپا امن قائم کرنے میں مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے۔