طالبان رجیم میں افغان معیشت تباہی کے دہانے پر، عام شہری شدید بحران کا شکار: رپورٹ

طالبان رجیم میں افغان معیشت تباہی کے دہانے پر، عام شہری شدید بحران کا شکار: رپورٹ

Aug 29, 2026|ویب ڈیسک

​کابل (29 اگست 2026ء): طالبان رجیم کی ناقص معاشی حکمت عملی اور غیر حقیقت پسندانہ پالیسیوں کے باعث افغانستان میں معاشی و انسانی بحران سنگین ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

​معروف آزاد تھنک ٹینک 'افغانستان اینالسٹس نیٹ ورک' (AAN) نے اپنی جامع تحقیقی رپورٹ میں طالبان انتظامیہ کے معاشی استحکام اور خود انحصاری کے بلند و بانگ دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔

جی ڈی پی میں مسلسل کمی اور لیبر مارکیٹ کا مکمل جمود

​تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے ملکی معیشت مسلسل تنزلی کا شکار ہے:

​جی ڈی پی کی شرح میں گراوٹ: قومی پیداوار (GDP) میں مسلسل گراوٹ نے ملکی مالیاتی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

​بے روزگاری کا طوفان: لیبر مارکیٹ شہریوں کو روزگار اور باعزت ذریعہ معاش فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

​بقا کی جنگ: سنگین غربت کے باعث لاکھوں خاندان اپنے اثاثے بیچنے، بچوں کو اسکول سے ہٹانے اور کم عمری میں مشقت پر لگانے پر مجبور ہیں۔

خواتین کے حقوق پر ضرب اور سنگین انسانی المیہ

​رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ طالبان کی جانب سے تعلیم اور روزگار پر عائد قدغنوں نے قومی معیشت میں خواتین کے کردار کو ختم کر دیا ہے، جس سے نچلے درجے کے گھرانوں کی معاشی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے۔

​"معاشی بدحالی کے باعث خواتین اور بچے گھروں کے اندر معمولی اجرت پر غیر محفوظ مشقت کرنے پر مجبور ہیں جبکہ خاندان اپنی بقاء کے لیے بچوں کا مستقبل قربان کر رہے ہیں۔" — افغانستان اینالسٹس نیٹ ورک

​اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (OCHA) کی ترجمان اولگا چیرویکو (Olga Cherevko) بھی افغانستان میں جاری اس انسانی المیے اور بدترین معاشی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔

​بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ طالبان رجیم کی انتہا پسندانہ پالیسیوں اور نااہلی کے باعث عام افغان شہری بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہو چکے ہیں۔