پاکستان کی سمندری معیشت میں بڑی پیش رفت: بندرگاہوں کی جدید کاری اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع

پاکستان کی سمندری معیشت میں بڑی پیش رفت: بندرگاہوں کی جدید کاری اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع

Aug 29, 2026|ویب ڈیسک

​اسلام آباد (29 اگست 2026ء): پاکستان نے اپنی وسیع سمندری حدود اور جغرافیائی اہمیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے بندرگاہوں کے بنیادی ڈھانچے کو جدید ترین ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل لاجسٹکس سے لیس کرنے کے ایک جامع پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔

​حکومتی اصلاحات کا مقصد بین الاقوامی تجارتی کارگو کی تیز رفتار و شفاف ترسیل کو یقینی بنانا اور ملک کو خطے کے ایک بڑے میری ٹائم و ٹرانزٹ حب کے طور پر متعارف کروانا ہے۔  

​H2: بندرگاہوں پر جدید ٹیکنالوجی کا نفاذ اور لاجسٹکس اصلاحات

​کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کی بندرگاہوں پر آپریشنل استعداد کار بڑھانے کے لیے جدید اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں:  

​ڈیجیٹل کسٹمز اور سنگل ونڈو سسٹم: فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ اور پورٹ آٹومیشن کے ذریعے کارگو کلیئرنس کے وقت میں نمایاں کمی لائی گئی ہے، جس سے درآمد و برآمد کے اخراجات کم ہو رہے ہیں۔

​انفراسٹرکچر کی توسیع: گہرے سمندر کے برتھوں (Berths) کی گنجائش میں اضافہ اور ڈریجنگ کا جدید نظام لاگو کیا جا رہا ہے تاکہ بڑے بین الاقوامی مال بردار بحری جہاز آسانی سے لنگرانداز ہو سکیں۔  

​شفاف لاجسٹکس نیٹ ورک: بندرگاہوں کو اندرون ملک ٹرانسپورٹ کوریڈورز اور ڈرائی پورٹس سے منسلک کرنے کے لیے جدید ٹریکنگ سسٹمز نصب کر دیے گئے ہیں۔  

​H2: بلیو اکانومی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے اسٹریٹجک شعبے

​پاکستان کا ایک ہزار کلومیٹر سے زائد طویل ساحلی خطہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش امکانات پیدا کر رہا ہے:  

​شپ بلڈنگ اور شپ ری سائیکلنگ: مقامی شپ یارڈز میں کمرشل جہاز سازی اور ری سائیکلنگ کی بحالی، جس سے بیرونی ادائیگیوں پر انحصار کم ہوگا۔  

​بنکرنگ سروسز: بین الاقوامی روٹس پر گزرنے والے جہازوں کو ایندھن اور سروسز کی فراہمی کے لیے گوادر اور کراچی میں جدید بنکرنگ سہولیات کی فراہمی।

​قومی تجارتی فلیٹ کی توسیع: پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے بحری مال برداری کے شعبے میں نجی اداروں کے اشتراک سے زرمبادلہ کمانے کی صلاحیت میں اضافہ۔