امریکہ میں آر ایس ایس کیخلاف شدید احتجاج، ہندوتوا کا اقلیت مخالف ایجنڈا بے نقاب
امریکہ میں آر ایس ایس کیخلاف شدید احتجاج، ہندوتوا کا اقلیت مخالف ایجنڈا بے نقاب
نیویارک (29 اگست 2026ء): امریکہ میں ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے سربراہ کے متوقع خطاب اور سرگرمیوں کے خلاف امریکی سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے کارکنان اور سیاسی رہنما سڑکوں پر نکل آئے۔
بین الاقوامی نشریاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق نیویارک سمیت مختلف امریکی شہروں میں ہونے والے مظاہروں نے بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) اور اس کی فکری سرپرست تنظیم آر ایس ایس کے انتہا پسندانہ و اقلیت مخالف نظریے کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے۔
نیویارک میں عوامی مظاہرے اور امریکی قیادت کا ردعمل
عالمی میڈیا نے نیویارک میں جاری احتجاج اور اس پر امریکی سیاسی رہنماؤں کے بیانات کی تفصیلات جاری کی ہیں:
زہران ممدانی کا دوٹوک مؤقف: جرمن جریدے ڈی ڈبلیو (DW) کے مطابق نیویارک کے سیاسی رہنما زہران ممدانی نے آر ایس ایس کو کھل کر ایک انتہا پسند اور تفرقہ ڈالنے والی تنظیم قرار دیا ہے۔
ٹی آر ٹی (TRT) کی رپورٹ: ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کے مطابق آر ایس ایس کے سربراہ کے دورے سے قبل عوامی سطح پر زبردست مزاحمت دیکھی جا رہی ہے، جہاں مظاہرین نے تنظیم پر بھارت میں مذہبی آزادیوں کو پامال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
اقلیتوں کے خلاف منظم مہم: مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز کے ذریعے واضح کیا کہ آر ایس ایس نے بھارت میں مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور دلت برادری کے خلاف منظم نفرت، تفریق اور پرتشدد کارروائیوں کو فروغ دیا ہے۔
ریاستی سیاست اور تعلیمی نظام پر آر ایس ایس کا تسلط
بین الاقوامی تجزیہ کاروں اور بھارتی آزاد صحافتی اداروں نے تنظیم کے ریاستی اداروں پر بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو دستاویز کیا ہے:
بی جے پی کا فکری منبع: ٹی آر ٹی کے تجزیے کے مطابق بھارت پر حکمرانی کرنے والی مودی حکومت کی بنیادیں دراصل اسی انتہا پسند ہندوتوا نظریے سے جڑی ہیں جو ریاستی سرپرستی میں اقلیتوں کو نشانہ بناتا ہے۔
تعلیمی نصاب میں تحریف: بھارتی جریدے دی وائر (The Wire) نے انکشاف کیا ہے کہ آر ایس ایس صرف سیاست تک محدود نہیں بلکہ تعلیمی اداروں اور جامعات پر بھی قابض ہو چکی ہے۔
عالمی تجزیہ کار کا انتباہ: معروف بین الاقوامی محقق و تجزیہ کار کرسٹوف جیفرلو (Christophe Jaffrelot) کے مطابق بھارت کی یونیورسٹیوں میں من پسند اور تاریخ کو مسخ کرنے والے نصاب کے نفاذ کے ذریعے نسلِ نو کو انتہا پسند نظریات کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں اٹھنے والی یہ احتجاجی لہر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہندوتوا اور مودی انتظامیہ کے فاشسٹ اقدامات کو اب بین الاقوامی سطح پر سخت اخلاقی و سفارتی ہزیمت کا سامنا ہے۔