شائننگ انڈیا کے دعوے بے نقاب: 50 لاکھ سے زائد بچے جبری مشقت پر مجبور
نئی دہلی (29 اگست 2026ء): نام نہاد معاشی ترقی اور 'شائننگ انڈیا' کے پرفریب نعروں کے برعکس بھارت میں معاشی و سماجی ناہمواری سنگین ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جہاں غربت اور بھوک کے مارے لاکھوں معصوم بچے سخت ترین جبری مشقت سہنے پر مجبور ہیں۔
مودی حکومت کی ناقص اقتصادی حکمت عملی اور کمزور سوشل سیفٹی نیٹ کے باعث ملک کے کروڑوں پسماندہ خاندان اپنے بچوں کو بنیادی تعلیم کے بجائے کارخانوں اور خطرناک صنعتوں میں جھونکنے پر بے بس ہیں۔
جاپانی نشریاتی ادارے 'این ایچ کے' کی تہلکہ خیز رپورٹ
جاپان کے سرکاری نشریاتی ادارے این ایچ کے (NHK) کی ایک جامع تحقیقاتی رپورٹ میں بھارت کے چائلڈ لیبر بحران کے ہولناک حقائق سامنے لائے گئے ہیں:
قانون سازی کے باوجود مشقت: بھارت میں ایک دہائی قبل 14 سال سے کم عمر بچوں کی ملازمت پر قانونی پابندی عائد کی گئی تھی، مگر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے سبب 50 لاکھ سے زائد بچے بدستور خطرناک صنعتوں میں کام کر رہے ہیں۔
سماجی کارکنان کی جدوجہد: رپورٹ کے مطابق ماضی میں چائلڈ لیبر کا شکار رہنے والے سرگرم کارکن 'کھیملال کھیترجی' نے ایک تعلیمی این جی او قائم کر کے اب تک 300 سے زائد بچوں کو جبری مشقت کی دلدل سے نکال کر تعلیم کی راہ پر گامزن کیا ہے۔
نظام کی عدم توجہی: بین الاقوامی میڈیا کے مطابق بھارت میں ریاستی سطح پر چائلڈ لیبر کے خاتمے کی کوششیں آج بھی بدترین بیوروکریٹک اور سماجی رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہیں۔
معاشی ترقی کے دعووں پر ماہرین کے سنگین سوالات
معاشی و سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں چائلڈ لیبر کی شرح میں اضافہ مودی انتظامیہ کی ترجیحات اور معاشی پالیسیوں کے کھوکھلے پن کو ظاہر کرتا ہے۔
سماجی تحفظ کا فقدان: نچلے طبقات کے لیے سماجی تحفظ کے نظام کی ناکامی نے بچوں کو کم عمری میں ہی غیر منظم لیبر مارکیٹ میں دھکیل دیا ہے۔
ترقی کے دعوؤں کی حقیقت: ماہرین نے واضح کیا ہے کہ جس ملک میں 50 لاکھ بچے بنیادی حقوق اور اسکولوں سے محروم ہو کر فیکٹریوں میں کام کرنے پر مجبور ہوں، وہاں عالمی معاشی سپر پاور بننے کے دعوے سراسر گمراہ کن ہیں۔