حکومتی معاشی حکمتِ عملی کامیاب: پاکستان کی تاریخ میں 5,920 ارب روپے کے قرضوں کی ریکارڈ قبل از وقت ادائیگی

حکومتی معاشی حکمتِ عملی کامیاب: پاکستان کی تاریخ میں 5,920 ارب روپے کے قرضوں کی ریکارڈ قبل از وقت ادائیگی

Aug 30, 2026|ویب ڈیسک

حکومتی معاشی حکمتِ عملی کامیاب: پاکستان کی تاریخ میں 5,920 ارب روپے کے قرضوں کی ریکارڈ قبل از وقت ادائیگی

​اسلام آباد (ویب ڈیسک) — حکومتِ پاکستان کی مؤثر معاشی حکمتِ عملی اور سخت مالیاتی نظم و ضبط کے نتیجے میں ملک نے قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی میں تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے قبل از وقت ادا کیے جانے والے قرضوں کا مجموعی حجم تقریباً 6 ہزار ارب روپے کے قریب پہنچ گیا ہے، جس سے آئندہ مالی سالوں میں بیرونی و اندرونی مالیاتی دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی۔

مالیاتی پالیسی میں نظم و ضبط اور روایتی طریقوں سے نجات

​مشیرِ وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق پاکستان اب تک مجموعی طور پر تقریباً 5,920 ارب روپے کا قرضہ مقررہ مدت سے قبل واپس کر چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی ڈیٹ مینجمنٹ اب روایتی طریقہ کار سے نکل کر ایک فعال اور مؤثر مالیاتی فریم ورک پر منتقل ہو چکی ہے، جس کا بنیادی مقصد سرکاری مالی پوزیشن کو مستحکم بنانا اور سود کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنا ہے۔

قرض ادائیگیوں کے اہم اعداد و شمار اور اثرات

​سابقہ ریکارڈز پیچھے رہ گئے: پاکستان نے قبل از وقت قرض واپسی میں اگست 2025 کے دوران قائم ہونے والے 1,133 ارب روپے کی ادائیگی کے سابقہ ریکارڈ کو بھی عبور کر لیا ہے۔

​مالی سال 2025/26 کی کارکردگی: مالی سال 25-2024 کے دوران اب تک مجموعی طور پر 2,900 ارب روپے کا قرضہ شیڈول سے پہلے کلیئر کیا گیا۔

​مالی سال 2026/27 کا تسلسل: موجودہ مالی سال 27-2026 میں اب تک مزید 1,200 ارب روپے کے واجبات قبل از وقت ادا کیے جا چکے ہیں۔

​قرض کے مجموعی حجم میں کمی: ان اقدامات سے نہ صرف ملکی قرضوں کے کل حجم میں کمی واقع ہو رہی ہے بلکہ مستقبل کے بجٹ میں ڈیبٹ سروسنگ کے بھاری اخراجات سے مالی گنجائش پیدا ہوگی۔

​حکومت کی یہ پیش رفت پاکستان کے میکرو اکنامک استحکام، روپے کی قدر کے تحفظ اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے اعتماد کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔