فتنہ الہندوستان کو بیرونی مالی و تکنیکی معاونت کے نئے شواہد منظرعام پر
اسلام آباد: پاکستان میں دہشتگردی پھیلانے والے گروہ ’فتنہ الہندوستان‘ کو حاصل مبینہ بیرونی مالی، عسکری اور تکنیکی معاونت کے حوالے سے مزید ٹھوس شواہد سامنے آگئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی جدید طرز کی سینمیٹک ویڈیوز اور جدید ترین جنگی آلات کے استعمال نے اس دہشتگرد نیٹ ورک کی مالیاتی پشت پناہی اور بین الاقوامی سہولت کاری سے متعلق کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی، سینمیٹک ویڈیوز اور امریکی ساختہ اسلحہ
جاری کردہ حالیہ پروپیگنڈا ویڈیوز اور ماضی کے بصری شواہد تکنیکی حوالے سے روایتی شدت پسند گروہوں کے مواد سے بالکل مختلف ہیں:
• ہائی ٹیک ویڈیو پروڈکشن: ویڈیوز میں ڈرون کیمروں کے زومز، ملٹی اینگل ریکارڈنگ، ہائی ڈیفینیشن (HD) کوریج اور پیشہ ورانہ ایڈیٹنگ کے واضح اثرات موجود ہیں۔
• امریکی ساختہ جنگی سازوسامان: حملوں کے مناظر اور کارروائیوں میں دہشتگردوں کے پاس امریکی ساختہ جدید ترین ہتھیار دیکھے جا سکتے ہیں، جو مبینہ طور پر افغانستان میں افغان طالبان کے زیرِ تصرف رہ چکے ہیں۔
• شہناز پروپیگنڈا ویڈیو: اس سے قبل خودکش حملہ آور شہناز کے حوالے سے جاری کردہ ویڈیو میں بھی انتہائی مہنگا و جدید سازوسامان استعمال کیا گیا، جو خطیر بیرونی فنڈنگ کا واضح ثبوت ہے۔
اقوام متحدہ اور سیگار رپورٹس کے ہوشربا انکشافات
بین الاقوامی رپورٹس نے بھی افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کے گٹھ جوڑ اور جدید ہتھیاروں کی منتقلی پر مہرِ تصدیق ثبت کی ہے:
• اقوام متحدہ (UN) کی رپورٹس: اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں سرگرم متعدد دہشتگرد گروہ خطے اور پڑوسی ممالک کے لیے مستقل خطرہ ہیں۔ رپورٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ فتنہ الہندوستان کے جنگجوؤں کو افغانستان میں القاعدہ کے تربیت کاروں اور ’فتنہ الخوارج‘ کے ساتھ مشترکہ عسکری تربیت فراہم کی جاتی رہی ہے۔
• سیگار (SIGAR) کا اعتراف: امریکی نگران ادارے سیگار کے مطابق اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی و نیٹو افواج کے انخلا کے وقت اربوں ڈالر مالیت کا جدید فوجی سازوسامان وہیں رہ گیا تھا، جو رفتہ رفتہ خطے میں فعال دہشتگرد تنظیموں کے ہاتھ لگ چکا ہے۔
علاقائی امن کو خطرات اور عالمی تحقیقات کا تقاضا
دفاعی اور عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیموں کی غیر ملکی فنڈنگ، افغانستان کی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں اور جدید جنگی ٹیکنالوجی تک بلاروک ٹوک رسائی خطے کے امن و استحکام کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان گروہوں کو حاصل بیرونی ریاستی پشت پناہی اور خفیہ ایجنڈوں کو بے نقاب کرنے کے لیے عالمی سطح پر جامع تحقیقات ناگزیر ہیں