رواں سال 40 ہزار سے زائد آپریشنز، 2,084 دہشت گرد ہلاک: ڈی جی آئی ایس پی آر
راولپنڈی (ویب ڈیسک): ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ملک بھر میں جاری انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں پر اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ رواں سال خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر 40,348 آپریشنز کیے گئے، جن کے دوران 2,084 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ ریاست کی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور دہشت گردوں کے پاس صرف دو ہی راستے ہیں: ہتھیار ڈال دیں یا مکمل خاتمے کے لیے تیار رہیں۔
سیکیورٹی صورتحال اور آپریشنز کے اعداد و شمار
ترجمان پاک فوج نے صوبائی سطح پر کیے جانے والے آپریشنز کی تفصیلات اور نقصانات کے حقائق میڈیا کے سامنے رکھے:
بلوچستان: 31,080 سے زائد آپریشنز کیے گئے۔
خیبر پختونخوا: 7,177 آپریشنز سرانجام دیے گئے۔
دیگر علاقے: 2,091 کارروائیاں مکمل کی گئیں۔
دہشت گردانہ واقعات: رواں سال 3,145 واقعات پیش आए، جن میں 28 بم دھماکے شامل ہیں۔
جانی نقصان اور شہادتیں: دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 819 افراد شہید ہوئے، جن میں 394 سیکیورٹی اہلکار اور 322 عام شہری شامل ہیں۔
"پاکستان میں آئین اور قانون تمام شہریوں کے لیے برابر ہے۔ ریاست ہے تو سیاست ہے، اور ریاست ہی ہماری پہلی اور آخری شناخت ہے۔" — ڈی جی آئی ایس پی آر
افغان سرپرستی اور بھارتی نیٹ ورک کا فاش ہونا
ڈی جی آئی ایس پی آر نے شواہد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہونے والے حالیہ تمام بم دھماکوں اور خودکش حملوں (بشمول ٹانک اور کراچی) میں افغان شہری ملوث پائے گئے ہیں۔
افغان طالبان اور RSS نظریے کا ملاپ: افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں اور سہولت کاری فراہم کر رہی ہے، جو بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف کام کر رہے ہیں۔
ہنی ٹریپ اور اسمگلنگ: بھارتی خفیہ ایجنسیاں اور 'فتنہ الہندوستان' خواتین کو ہنی ٹریپ کے ذریعے بی ایل اے (BLA) میں شامل کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اسمگلنگ (منشیات اور ڈیزل) سے حاصل ہونے والی رقم دہشت گردی میں استعمال ہو رہی ہے۔
منشیات کے خلاف کامیابی: رواں سال 18 ارب روپے مالیت کی منشیات ضبط کر کے 4,500 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
سرداری نظام اور جعلی پروپیگنڈے کی حقیقت
ترجمان پاک فوج نے بلوچستان کے جاگیردارانہ و سرداری نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ مخصوص عناصر نہیں چاہتے کہ غریب کا بچہ تعلیم حاصل کرے یا انجینئر اور ڈاکٹر بنے۔
300 سے زائد جعلی بھارتی ویب سائٹس: ہندوستان پاکستان کے خلاف گودی میڈیا اور 300 سے زائد بوگس ویب سائٹس کا سہارا لے کر گمراہ کن پروپیگنڈا پھیلا رہا ہے۔
لاپتہ افراد کا سچ: لاپتہ افراد کمیشن کو 2,933 کیسز موصول ہوئے، جبکہ متعدد مبینہ لاپتہ افراد سیکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کے دوران مارے گئے ہیں۔