طالبان دور میں طبی سہولیات کا غلط استعمال، ایمبولینس میں منشیات اسمگلنگ

طالبان دور میں طبی سہولیات کا غلط استعمال، ایمبولینس میں منشیات اسمگلنگ

Sep 24, 2026|ویب ڈیسک

افغاستان میں طالبان انتظامیہ کے زیرِ اثر سرکاری طبی سہولیات کے غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کا ایک نیا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں منشیات کی نقل و حمل کے لیے ہسپتال کی ایمبولینس کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی مصدقہ ویڈیو اور پوسٹس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ صوبہ تخار کے سینٹرل ہسپتال سے وابستہ ایمبولینس کو منشیات کی اسمگلنگ کے لیے کھلے عام استعمال کیا گیا۔ اس واقعے نے طالبان کے دورِ اقتدار میں نگرانی کے ناقص نظام، احتساب کے فقدان اور ہسپتالوں کے ناگفتہ بہ حالات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ناقدین اور تجزیہ کاروں کے مطابق، افغانستان میں عام شہری پہلے ہی علاج معالجے اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کی بدترین زبوں حالی سے دوچار ہیں، ایسے حالات میں لائف سیونگ ایمبولینسز اور طبی وسائل کو اسلحہ اور منشیات مافیا کے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینا انتظامیہ کی واضح ملی بھگت اور نااہلی کا ثبوت ہے۔ سرکاری وسائل کا یہ غیر قانونی استعمال ظاہر کرتا ہے کہ خطے میں غیر قانونی نیٹ ورکس کو بااثر عناصر کی کھلی پشت پناہی حاصل ہے