تازہ ترین
بلوچستان میں صحت کے شعبے میں بڑا اقدام، تربت میں جدید ترین اسپتال کا آغاز بلوچستان کے ضلع ژوب میں زلزلے کے جھٹکے،ریکٹر اسکیل پر شدت 4.1 ریکارڈ ژوب ڈیجیٹل میڈیا پالیسی یا مقامی صحافت کا جنازہ؟ بلوچستان: پانی کا بحران یا وجود کا بحران؟ نیا گریٹ گیم: امریکہ، چین اور خلیجی ممالک کی توجہ بلوچستان کے قیمتی معدنی ذخائر پر مرکوز بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 14 دہشت گرد ہلاک، ایک جوان شہید ایشین گیمز 2026: پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت صاحبزادہ فرحان کے سپرد عالمی کپ فٹ بال 2026 کے ٹکٹوں کی دوبارہ فروخت، قیمتوں میں نمایاں کمی ملک میں فٹ بال کے مضبوط ڈھانچے کے لیے قومی سطح کا نیا منصوبہ منظور ہاکی کے پنالٹی کارنر کے بے تاج بادشاہ سہیل عباس 51 برس کے ہوگئے ذہنی امراض سے متعلق آگاہی وقت کی اہم ضرورت ہے: ماہرہ خان ارمان ملک کا بیوی کے لباس پر تبصرہ، سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی امتیاز علی نے کالج کے دنوں میں اغوا ہونے کا واقعہ سنا دیا جگاپتی بابو کی جھانوی کپور کے حق میں آواز، ذاتی حملوں پر تنقید وزیر داخلہ بلوچستان کا متاثرہ خاندان کو انصاف کی یقین دہانی، نامزد ملزمان کی گرفتاری اور محکمانہ کارروائی شروع میر ضیاء اللہ لانگو کی کوئٹہ میں متاثرہ خاندان سے ملاقات، تعزیت اور فاتحہ خوانی پڑوسیوں کے تنگ کرنے پر بچوں کے قتل اور خودکشی کا افسوس ناک واقعہ، بلوچستان حکومت کا بڑا ایکشن، نامزد ملزم معطل
بلوچستان خبر

جگاپتی بابو کی جھانوی کپور کے حق میں آواز، ذاتی حملوں پر تنقید

جگاپتی بابو کی جھانوی کپور کے حق میں آواز، ذاتی حملوں پر تنقید

ممبئی( شو بز ڈیسک)فلم ’’پیڈی‘‘ کے گرد جاری تنازع کے دوران سینئر بھارتی اداکار جگاپتی بابو نے اپنی ساتھی اداکارہ جھانوی کپور کی حمایت کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ تنقید فلم یا اس کے مناظر تک محدود رکھی جائے اور فنکاروں کو ذاتی نشانہ نہ بنایا جائے۔فلم میں جھانوی کپور کے کردار کے بعض مناظر سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں آئے، جس کے بعد ناظرین کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے۔ بعد ازاں فلم کے ہدایتکار نے معذرت کرتے ہوئے متنازع مناظر کو فلم سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔اس معاملے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے جگاپتی بابو نے کہا کہ کسی ایک اداکار یا اداکارہ کو تمام تر تنقید کا ہدف بنانا ناانصافی ہے۔ ان کے مطابق فنکار عموماً ہدایتکار کے تخلیقی تصور اور ہدایات کے مطابق کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تخلیقی فیصلوں کی ذمہ داری صرف اداکار پر ڈالنا درست نہیں، کیونکہ فلم سازی ایک مشترکہ عمل ہے جس میں متعدد افراد شامل ہوتے ہیں۔سینئر اداکار نے مزید کہا کہ اختلافِ رائے اور تنقید ہر ناظر کا حق ہے، تاہم سوشل میڈیا پر ذاتی حملے اور ذہنی دباؤ پیدا کرنے والی مہمات قابلِ قبول نہیں ہونی چاہئیں۔جگاپتی بابو کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر اس بحث نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں بعض صارفین نے ان کی رائے کی حمایت کی جبکہ بعض نے فلم کے مواد پر اپنی تنقید برقرار رکھی ہے۔