یومِ آزادی کے خواب سے حقیقت تک؛ تحریکِ آزادی کی کہانی، کشور ناہید کی زبانی

یومِ آزادی کے خواب سے حقیقت تک؛ تحریکِ آزادی کی کہانی، کشور ناہید کی زبانی

Aug 9, 2026|ویب ڈیسک

آزاد فضاؤں کے پیچھے آباؤ اجداد کی لازوال قربانیاں

جس آزاد فضا میں ہم آج سانس لے رہے ہیں، اس کے پیچھے ہمارے آباؤ اجداد کی اننت قربانیاں اور خونچکاں جدوجہد پوشیدہ ہے۔ ممتازمصنفہ اور نامور شاعرہ کشور ناہید نے یومِ آزادی کی مناسبت سے 1947ء کی دردناک اور تاریخ ساز یادوں کو تازہ کرتے ہوئے ہجرت کے دوران پیش آنے والے خوفناک مناظر سے پردہ اٹھایا ہے۔


اہم نقطہ: پاکستان محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ لامتناہی قربانیوں، خوابوں کی تعبیر اور پختہ عزم کا زندہ استعارہ ہے۔

ٹرینوں پر حملے اور خونی قافلے: ہجرت کے دردناک مناظر

قیامِ پاکستان کے وقت بھارت سے آنے والے مہاجرین پر ٹوٹنے والے مظالم کو بیان کرتے ہوئے کشور ناہید نے بتایا کہ یہ سفر خون اور آنسوؤں سے لکھا گیا۔


جان و مال کا نقصان: "ہجرت کے دوران ٹرینوں میں سفر کرنے والی جوان لڑکیوں کو اغوا اور مردوں کو شہید کر دیا جاتا تھا۔"


بے سائے مہاجرین: "پاکستان پہنچنے والے مہاجرین کو جہاں بھی جگہ ملتی، وہیں پناہ گزین ہو جاتے تھے۔"


خالی ہاتھ اور جذبہِ سرفروشی: کانٹوں سے فائلیں جوڑنے کا عزم

قیامِ پاکستان کے بعد کے ابتدائی حالات اس بات کے گواہ ہیں کہ ملک کو صفر سے کس طرح تعمیر کیا گیا۔


سرکاری ملازمین کا جذبہ: "سرکاری ملازمین کے پاس کام کے لیے نہ میزیں تھیں اور نہ کرسیاں؛ وہ زمین پر بیٹھ کر سرکاری امور نمٹاتے تھے۔"


وسائل کی کمی کا حل: "کاغذات اور صفحوں کو نتھی کرنے کے لیے پنوں کی جگہ درختوں کے کانٹوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔"


انصارِ مدینہ جیسی اخوت: "پاکستان میں پہلے سے موجود شہریوں نے کھلے دل سے اپنے مہاجر بھائیوں کا استقبال کیا اور ان کی تمام ضرورتیں پوری کیں۔"