فتنہ الہندوستان کے ہاتھوں بلیک میل دہشت گرد ارمان بلوچ کا عسکریت پسندی سے لاتعلقی کا اعلان

فتنہ الہندوستان کے ہاتھوں بلیک میل دہشت گرد ارمان بلوچ کا عسکریت پسندی سے لاتعلقی کا اعلان

Aug 7, 2026|ویب ڈیسک

کوئٹہ: بلوچستان میں کالعدم عسکری تنظیموں کے کارندوں کے ہتھیار ڈالنے اور قومی دھارے میں شامل ہونے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اسی سلسلہ میں کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے اہم عسکریت پسند ارمان بلوچ نے دہشت گرد تنظیم سے تمام تعلقات ختم کرتے ہوئے ریاست اور اس کے اداروں سے معافی کا مطالبہ کر دیا ہے۔


روزگار کی تلاش سے دہشت گردی کے دام تک: ارمان بلوچ کی آپ بیتی

سابق عسکریت پسند ارمان بلوچ نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ روزگار کی تلاش میں ایران گیا تھا، جہاں اسے دہشت گردوں نے اغوا کر کے نامعلوم پہاڑی سلسلے میں منتقل کر دیا۔


ارمان بلوچ کے مطابق:


"پہاڑوں میں میری ملاقات کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) کے کمانڈر قمر بروہی سے کروائی گئی، جس کے بعد مجھے زبردستی عسکری صفوں میں شامل کر لیا گیا۔ میں نے چھ ماہ تک تنظیم کے ساتھ رہ کر گوریلا تربیت حاصل کی اور تمپ و بلیدہ کے علاقوں میں دو مختلف حملوں میں بھی حصہ لیا۔"


تشدد، حقائق کا ادراک اور فرار کی کوشش

ارمان بلوچ نے مزید بتایا کہ وقت گزرنے کے ساتھ اسے احساس ہوا کہ وہ مکمل طور پر ایک غلط اور تباہ کن راستے پر گامزن ہے۔ تاہم، جب اس نے تنظیم چھوڑ کر اپنے گھر واپس جانے کی خواہش ظاہر کی تو اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔


"مجھے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تاکہ میں ان کا ساتھ نہ چھوڑوں، لیکن میں نے بالاخر اس راستے کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں آئندہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں حصہ نہیں لوں گا اور ریاستی اداروں سے معافی کا طلبگار ہوں۔"


بلوچ نوجوانوں کے نام اہم پیغام

ارمان بلوچ نے بلوچستان کے تمام نوجوانوں سے پرزور اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک دشمن عناصر اور 'فتنہ الہندوستان' کے جھوٹے پروپیگنڈے اور دلفریب وعدوں کے دھوکے میں ہرگز نہ آئیں۔


وفاداری کا عزم: نوجوان اپنے ملک و ملت سے وفادار رہیں اور ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے زندگی گزاریں۔


پروپیگنڈے کا خاتمہ: سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ارمان بلوچ جیسے نوجوانوں کا قومی دھارے میں لوٹنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عسکریت پسند تنظیموں کا بیانیہ اب بلوچستان میں مکمل طور پر مسترد ہو چکا ہے