فنانشل ٹائمز رپورٹ: یوگی آدتیہ ناتھ کی مسلم کش پالیسیاں بے نقاب

فنانشل ٹائمز رپورٹ: یوگی آدتیہ ناتھ کی مسلم کش پالیسیاں بے نقاب

Aug 22, 2026|ویب ڈیسک

​عالمی جریدے نے اتر پردیش میں ہندوتوا ایجنڈے اور ریاستی مظالم کے ہتھکنڈے بے نقاب کر دیے

​معروف عالمی جریدے فنانشل ٹائمز نے اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں بھارتی ریاست اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے انتہا پسندانہ اقدامات اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ریاستی جبر کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یوگی آدتیہ ناتھ وزیراعظم نریندر مودی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ہندوتوا کے انتہا پسندانہ نظریے کو مزید جارحانہ انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں۔

​بیانات اور ریاستی مشینری کا منفی استعمال

​جریدے کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کے لیے نہ صرف اشتعال انگیز بیان بازی کا سہارا لیتے ہیں بلکہ عملی طور پر جارحانہ ریاستی پالیسیاں بھی نافذ کر رہے ہیں۔

​2020 کا متنازع بیان: یوگی نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ تقسیمِ ہند کے وقت مسلمانوں نے بھارت میں رک کر کوئی احسان نہیں کیا تھا۔

​اشتعال انگیزی پر تنقید: تجزیہ کاروں اور ناقدین نے یوگی کے بیانات کو معاشرے میں مستقل پولرائزیشن اور نفرت پھیلانے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔

​بین الاقوامی اور مقامی ماہرین کی رائے

​جنوبی ایشیائی امور کے نامور عالمی ماہر کرسٹوف جیفرلو کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ انتہا پسند ہندو گروہوں کو اقلیتوں کے خلاف اکسانے میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔

​اسی تناظر میں معروف بھارتی صحافی سوشانت سنگھ کا کہنا ہے کہ اتر پردیش میں مسلمانوں کو منظم معاشی محرومی کا شکار بنانا اور پولیس کے ذریعے ہراساں کرنا موجودہ حکومت کا مستقل وطیرہ بن چکا ہے۔

​اہم نکات (Key Takeaways)

​خصوصی پولیس اسکواڈز: فنانشل ٹائمز کے مطابق آدتیہ ناتھ نے اقلیتوں اور بالخصوص مسلم برادری پر دباؤ بڑھانے کے لیے پولیس کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں۔

​سماجی تقسیم: بی جے پی حکومت کی سرپرستی میں آر ایس ایس کا انتہا پسند ہندوتوا نظریہ اتر پردیش میں اقلیتوں کے حقوق سلب کر رہا ہے۔

​عالمی توجہ: عالمی جریدے کی رپورٹ نے بھارت میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کی بگڑتی صورتحال کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔