مظاہرین پر کریک ڈاؤن، مودی سرکار کو عالمی سطح پر ہزیمت

مظاہرین پر کریک ڈاؤن، مودی سرکار کو عالمی سطح پر ہزیمت

Oct 14, 2026|ویب ڈیسک



**نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک):** بھارت میں پُرامن احتجاج کے خلاف جابرانہ ریاستی ہتھکنڈوں کے استعمال اور انتخابی فہرستوں میں مبینہ دھاندلی پر مودی سرکار کو عالمی سطح پر شدید تنقید اور سفارتی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سیاسی فائدہ پہنچانے کی غرض سے ووٹر لسٹوں سے 13 کروڑ سے زائد نام خارج کیے جانے کے معاملے نے ملک گیر اور بین الاقوامی سطح پر نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔


انسانی حقوق کی عالمی تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بھارتی حکام نے پُرامن مظاہرین کی آواز دبانے کے لیے جابرانہ اقدامات کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروسز معطل کر دیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے والے مقامی اور غیر ملکی صحافیوں کو نہ صرف ہراساں کیا جا رہا ہے بلکہ انہیں من مانی بنیادوں پر حراست میں بھی لیا جا رہا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ بھارتی چیف الیکشن کمشنر کے حالیہ متنازع اقدامات کے براہِ راست اثرات ملک کی مسلم آبادی اور دیگر مذہبی اقلیتوں پر پڑ رہے ہیں، جنہیں انتخابی عمل سے دور دھکیلا جا رہا ہے۔


ہیومن رائٹس واچ کی ایشیا ڈائریکٹر ایلین پیئرسن نے نئی دہلی کی صورتحال پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی پولیس پُرامن مظاہرین کے خلاف غیر ضروری اور حد سے زیادہ طاقت کا وحشیانہ استعمال کر رہی ہے جو بنیادی جمہوری حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔


دوسری جانب رائٹرز اور نیو یارک ٹائمز سمیت عالمی ذرائع ابلاغ نے بھی بھارتی انتظامیہ کی سخت گیر پالیسیوں، مظاہرین پر وحشیانہ تشدد اور ووٹر رجسٹریشن میں گڑبڑ پر تفصیلی رپورٹس شائع کرتے ہوئے مودی حکومت کے نام نہاد جمہوری دعوؤں کا کھوکھلا پن دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔