پاک چین بڑھتے اثر و رسوخ نے جنوبی ایشیا میں بھارت کی بالادستی ختم کر دی

پاک چین بڑھتے اثر و رسوخ نے جنوبی ایشیا میں بھارت کی بالادستی ختم کر دی

Aug 17, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد: جنوبی ایشیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی جیوپولیٹیکل صورتحال میں پاکستان اور چین کی مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری نے خطے میں بھارت کے دہائیوں پر محیط روایتی اثر و رسوخ اور بالادستی کے دعووں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ عالمی نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے (DW) کی ایک جامع تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق خطے کے ممالک اب نئی دہلی کے بجائے بیجنگ اور اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دے رہے ہیں۔

علاقائی منصوبوں میں چین کا بڑھتا ہوا کردار

ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق چین نے پاکستان سے لے کر سری لنکا اور بنگلہ دیش تک اپنی معاشی و اسٹریٹجک گرفت غیر معمولی حد تک مضبوط کر لی ہے:

• بنگلہ دیش کا رخ: ڈھاکہ کی جانب سے اہم دریائی اور آبی منصوبوں کے لیے چین سے تکنیکی و مالیاتی تعاون طلب کرنا بھارت کے لیے گہری اسٹریٹجک تشویش کا باعث بن چکا ہے۔

• سمندری و تجارتی راہداری: چین سری لنکا اور خطے کی دیگر اہم بندرگاہوں کے ذریعے بحرِ ہند میں اپنی معاشی موجودگی کو وسعت دے رہا ہے۔

پاک چین دفاعی تعاون میں تاریخی پیش رفت

رپورٹ کے مطابق بیجنگ اور اسلام آباد کا باہمی عسکری و تکنیکی تعاون محض روایتی دفاع تک محدود نہیں رہا بلکہ جدید ترین جنگی صلاحیتوں میں ڈھل چکا ہے:

• جدید جنگی ٹیکنالوجی: دونوں ممالک کا دفاعی اشتراک ففتھ جنریشن اور ایڈوانسڈ لڑاکا طیاروں، جدید آبدوزوں، مسلح ڈرونز، سیٹلائٹ سسٹمز اور ایئر ڈیفنس شیلڈز تک پھیل چکا ہے۔

• دفاعی استحکام کا مظاہرہ: پاک بھارت سرحدی و عسکری تناؤ کے دوران اس مضبوط دفاعی اشتراک نے پاکستان کی دفاعی پوزیشن کو ناقابلِ تسخیر ثابت کیا۔

سی پیک اور بحیرہ عرب تک رسائی کی تزویراتی اہمیت

ڈوئچے ویلے کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) گیم چینجر کی حیثیت اختیار کر چکی ہے:

• گوادر پورٹ: چین کے مغربی علاقوں کو گوادر پورٹ کے ذریعے براہِ راست بحیرہ عرب سے جوڑنے کا عمل پاکستان کی جیو اسٹریٹجک اور معاشی اہمیت میں تاریخی اضافے کا باعث بنا ہے۔

• عالمی تجارتی روٹ: یہ راہداری نہ صرف توانائی اور لاجسٹکس کے روٹس کو محفوظ بناتی ہے بلکہ خطے کو یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ کم ترین وقت میں منسلک کرتی ہے۔

طاقت کے توازن میں تبدیلی اور نئی دہلی کے چیلنجز

دفاعی اور خارجہ امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں چین کے اقتصادی منصوبوں اور پاکستان کے مضبوط جغرافیائی کردار نے جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو مکمل طور پر ازسرنو مرتب کر دیا ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں بھارت کو نہ صرف اپنی خارجہ پالیسی کے بحران کا سامنا ہے بلکہ خطے کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اس کے روایتی اثر و رسوخ کے دائرے بھی مسلسل سکڑ رہے ہیں