دورہ بھارت سے قبل حسینہ واجد کی حوالگی ضروری ہے: بنگلہ دیش کا دو ٹوک مؤقف

دورہ بھارت سے قبل حسینہ واجد کی حوالگی ضروری ہے: بنگلہ دیش کا دو ٹوک مؤقف

Aug 17, 2026|ویب ڈیسک

ڈھاکہ: بنگلہ دیش اور بھارت کے مابین سفارتی تعلقات میں ایک بار پھر شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ بھارتی جریدے دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، بنگلہ دیشی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم طارق رحمان کے دورہ نئی دہلی سے قبل سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد اور دیگر مفرور ملزمان کی حوالگی کے تصفیہ طلب معاملے کو حل کرنا ناگزیر ہے۔


ڈھاکہ کا نئی دہلی سے سازگار ماحول بنانے کا مطالبہ

بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پالیسی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعلیٰ سطح کے دوروں کے انعقاد سے قبل نئی دہلی کو اعتماد سازی کے لیے موزوں اور سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا۔ ڈھاکہ نے باضابطہ طور پر بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ شیخ حسینہ سمیت انسانیت کے خلاف جرائم میں مطلوب دیگر مفرور ملزمان کی قانونی حوالگی کے عمل کو تیز کرے۔


سفارتی ترجیحات اور خارجہ پالیسی میں تبدیلی

جریدے دی ہندو کے مطابق وزیراعظم طارق رحمان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد روایتی سفارتی راستوں سے ہٹ کر خارجہ پالیسی ترجیحات کو تبدیل کیا ہے:


علاقائی و بین الاقوامی دورے: انہوں نے اپنے ابتدائی دوروں کے دوران نئی دہلی جانے کے بجائے ملائیشیا اور چین کے دوروں کو ترجیح دی۔


عدالتی فیصلے اور قانونی دباؤ: بنگلہ دیشی عدالت کی جانب سے شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات میں سزا سنائے جانے کے بعد ان کی بھارت میں موجودگی دونوں ممالک کے مابین سنگین سفارتی تنازع کی بنیاد بن چکی ہے۔


علاقائی کشیدگی اور ہمسایہ ممالک کے خدشات

بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا ماننا ہے کہ شیخ حسینہ کی قانونی حوالگی کا تعطل بنگلہ دیش اور بھارت کے مابین تعلقات کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کے ساتھ ہی، جنوبی ایشیا میں نئی دہلی کی مبینہ مداخلت اور سیاسی اثر و رسوخ کے باعث دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات پر بھی مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں