طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشان کے اضلاع میں شدید جھڑپیں

طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشان کے اضلاع میں شدید جھڑپیں

Jul 27, 2026|ویب ڈیسک

کابل / فیض آباد — افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشان کے اضلاع یفتل اور زیباک میں طالبان رجیم اور مخالف مسلح گروپس کے درمیان شدید جھڑپوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ ان کارروائیوں نے افغانستان پر مکمل کنٹرول سے متعلق طالبان حکومت کے دعوؤں پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ 

خبر کے اہم نکات

• فوجی قافلے پر راکٹ حملہ: افغانستان فریڈم فرنٹ (AFF) نے کابل سے بدخشان جانے والے طالبان کے فوجی قافلے کو شمالی سالنگ میں نشانہ بنایا۔ 

• بھاری جانی نقصان: راکٹ حملے کے نتیجے میں 7 افغان طالبان اہلکار ہلاک جبکہ 6 سے زائد شدید زخمی ہو گئے۔

• ڈرون اور ہیلی کاپٹر ناکارہ: زیباک میں فریڈم فرنٹ نے طالبان کے دو فوجی ڈرونز مار گرائے اور ہیلی کاپٹرز کو لینڈنگ سے روک دیا۔

• سیاسی موقف: سابق نائب صدر امراللہ صالح نے عزم ظاہر کیا ہے کہ منظم عسکری و سیاسی مزاحمت طالبان کے اقتدار کا خاتمہ کرے گی۔

شمالی سالنگ اور بدخشان میں عسکری پیش رفت

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر جاری کردہ بیان کے مطابق افغانستان فریڈم فرنٹ کے جنگجوؤں نے کابل سے بدخشان اضافی نفری اور جنگی سامان منتقل کرنے والے طالبان کے فوجی قافلے کا شمالی سالنگ تک تعاقب کیا اور راکٹوں سے حملہ کر دیا۔ 

مقام واقعے کی نوعیت و تفصیلات

شمالی سالنگ کابل سے بدخشان جانے والے طالبان کے امدادی قافلے پر راکٹ حملہ

ضلع زیباک 2 طالبان ڈرونز کی تباہی اور ہیلی کاپٹرز کو پسپائی پر مجبور کرنا

ضلع یفتل طالبان کے ملٹری چیک پوسٹوں پر حملے اور مسلح تصادم

فضائی دفاع اور تکنیکی صلاحیتوں کا مظاہرہ

اس کارروائی سے قبل، بدخشان کے اضلاع میں طالبان کے دو نگران ڈرونز کو بھی مار گرایا گیا تھا۔ جبکہ جمعہ کے روز زیباک میں اضافی نفری لانے والے طالبان ہیلی کاپٹرز کو بھی مزاحمتی جنگجوؤں کی شدید فائرنگ کی وجہ سے اترے بغیر واپس جانا پڑا۔

صحافتی و سیاسی تجزیہ کاروں کے ردِعمل

اس نئی پیش رفت پر افغانستان کے سینئر صحافیوں اور سیاسی رہنماؤں نے اہم مشاہدات پیش کیے ہیں:

• صحافی بلال سروری کا ردِعمل: معروف افغان صحافی بلال سروری کے مطابق فریڈم فرنٹ کے مسلسل حملے، ڈرون تباہ کرنا اور لاجسٹک پر حملے ان کی جدید جنگی حکمتِ عملی، انٹیلی جنس کنٹرول اور بہترین تیاری کا ثبوت ہیں۔

• امراللہ صالح کا موقف: سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح نے کہا ہے کہ طالبان کی موجودہ حکومت غیر آئینی اور غیر قانونی ہے، اور ان کے خلاف بڑھتی ہوئی منظم سیاسی و عسکری مزاحمت بالاخر طالبان رجیم کا خاتمہ ثابت ہوگی۔