چترال کے شہریوں کی دیر اور سوات کو ملا کر الگ صوبہ بنانے کی حمایت

چترال کے شہریوں کی دیر اور سوات کو ملا کر الگ صوبہ بنانے کی حمایت

Sep 9, 2026|ویب ڈیسک

پائیدار ترقی، متوازن علاقائی خوشحالی اور موثر حکمرانی کے لیے ملک کے دیگر حصوں کی طرح چترال کے عوام نے بھی نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی بھرپور حمایت کر دی ہے۔ مقامی شہریوں نے انتظامی اصلاحات کے پیشِ نظر چترال، دیر اور سوات کے اضلاع کو ملا کر ایک الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔


نئے صوبوں کے قیام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے شہریوں کا کہنا ہے کہ رقبے کے لحاظ سے چترال ایک انتہائی وسیع ضلع ہے اور موجودہ سیٹ اپ میں عام آدمی کی وزیراعلیٰ اور اعلیٰ صوبائی حکام تک رسائی بے حد دشوار ہے۔


مقامی باشندوں کے مطابق چھوٹے انتظامی یونٹس یا الگ صوبہ بننے سے نہ صرف عوام کی سرکاری حکام تک رسائی آسان ہو گی بلکہ ریاستی اداروں اور شہریوں کے درمیان فاصلے بھی ختم ہوں گے۔


شہریوں کا ماننا ہے کہ نئے انتظامی فریم ورک کی تشکیل سے سروس ڈیلیوری کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی جس کے مثبت اور خوشگوار اثرات صرف چترال ہی نہیں بلکہ پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔