افغانستان: طالبان رجیم کیخلاف مسلح مزاحمت میں غیر معمولی شدت، پے در پے حملے

افغانستان: طالبان رجیم کیخلاف مسلح مزاحمت میں غیر معمولی شدت، پے در پے حملے

Aug 22, 2026|ویب ڈیسک

​بدخشاں اور تخار میں افغان فریڈم فرنٹ اور دی گرین ٹرینڈ کی کارروائیاں، گورنر کمپاؤنڈ اور سیکیورٹی چوکیوں کو نشانہ بنا دیا گیا

​افغانستان میں طالبان کے زیرِ انتظام عبوری حکومت کے خلاف سرگرم مخالف مسلح گروپوں کی عسکری کارروائیوں میں غیر معمولی تیزی آ گئی ہے۔ شمال اور شمال مشرقی صوبوں میں مختلف مزاحمتی دھڑوں کی جانب سے کیے جانے والے مربوط حملوں کے نتیجے میں طالبان فورسز کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے।

​بدخشاں: گورنر آفس اور سیکیورٹی چوکی پر راکٹ باری

​طالبان مخالف مسلح سیاسی تنظیم افغان فریڈم فرنٹ (AFF) کے ذرائع کے مطابق صوبہ بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد میں طالبان کے گورنر کمپاؤنڈ اور ایک اہم سیکیورٹی پوسٹ کو راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا।

​تنظیم کے دعوے کے مطابق راکٹ حملوں اور اس کے بعد ہونے والی جھڑپ میں 9 طالبان اہلکار ہلاک اور شدید زخمی ہوئے।

​مزاحمتی فورسز نے حملے کے دوران حساس تنصیبات اور چیک پوسٹوں کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا।  

​تخار: دی گرین ٹرینڈ کی منظم کارروائی

​دوسری جانب افغان مزاحمتی گروپ دی گرین ٹرینڈ نے صوبہ تخار کے اسٹریٹجک ضلع چہ آب میں طالبان کے زیرِ استعمال ایک عمارت پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق اس کارروائی میں طالبان کو بھاری جانی نقصان پہنچایا گیا۔  

​عسکری ماہرین کا تجزیہ

​دفاعی اور علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران بدخشاں، تخار، ہرات اور دیگر ملحقہ صوبوں میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں اس امر کا ثبوت ہیں کہ طالبان مخالف دھڑوں کی تنظیمی صلاحیت، انٹیلی جنس نیٹ ورک اور حکمتِ عملی میں بہتری آئی ہے۔

​اہم نکات (Key Takeaways)

​فیض آباد پر حملہ: افغان فریڈم فرنٹ نے بدخشاں کے صوبائی ہیڈکوارٹر میں گورنر آفس اور سیکیورٹی چیک پوسٹ کو راکٹوں سے نشانہ بنایا।  

​تخار میں ٹارگٹڈ ایکشن: 'دی گرین ٹرینڈ' نے چہ آب میں طالبان کے زیرِ اثر ٹھکانوں پر حملہ کر کے نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا۔  

​مزاحمتی لہر میں اضافہ: شمالی اور شمال مشرقی افغانستان میں طالبان رجیم کی سیکیورٹی گرِپ کو چیلنج کرنے کے لیے مختلف گروپ منظم ہو رہے ہیں۔