”فتنہ الہندوستان،فتنہ الخوارج پر ایف سی بلوچستان (ساؤتھ)کا قہر جاری“

ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے جنوبی بلوچستان میں فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے لیے زمین تنگ کر دی گئی ہے اور چن چن کر ان کو جہنم رسید کیا جا رہا ہے۔24جون2026کو فتنہ الہندوستان کالعدم تنظیم بی ایل اے کی نام نہاد قہر فورس(ڈرون فورس) کے 30 سے 35 مسلح دہشت گرد خاران کی ملحقہ کلی سراوان میں داخل ہوئے۔ ان کا منصوبہ صاف تھا، ناکہ بندی کر کے لوٹ مار کرنا، بھتہ وصول کرنا اور علاقے کو کئی دن تک یرغمال بنا کر ایک بڑی دہشت گردی کی کو انجام دینا۔مگر یقینا وہ یہ بھول گئے کہ ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) لمحہ بھر کے لیے بھی غافل نہیں ہوتی۔ خفیہ اطلاعات ملتے ہی جدید تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی کی گئی۔ ایف سی بلوچستان(ساؤتھ) کے چاق وچوبند دستوں نے نماز فجر کے بعد آپریشن کا آغاز کیا، عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے ایسا کاری وار کیا کہ نام نہاد قہر فورس کے ہوش اڑ گئے۔بوکھلاہٹ میں یہ دہشت گرد قریبی اسکول میں گھس گئے اور وہاں سے عام شہریوں پر فائرنگ شروع کر دی۔ یہ ہے ان نام نہاد سرمچاروں کی اصلیت کہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے کبھی خواتین اور بچوں کو تو کبھی اسکولوں، ہسپتالوں کو اور مساجد کو اپنی ڈھال بناتے ہیں۔ مگر ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسکول کا محاصرہ کر کے کلیئرنس آپریشن شروع کیاجس دوران 4 دہشت گرد موقع پر جہنم رسید ہوئے جبکہ 6 شدید زخمی۔اس کارروائی میں 6 موٹر سائیکلیں، 3 کواڈ کاپٹرز، 3 کواڈ کاپٹر راکٹ اور 14 عام راکٹ برآمد ہوئے۔ اس کے ساتھ 2 آئی ای ڈیز بھی ملیں جن کو بروقت ناکارہ بنا دیاگیا۔سوچیں اگر یہ آئی ڈیز پھٹ جاتیں تو کتنی جانیں جا سکتی تھیں۔ ایف سی بلوچستان(ساؤتھ) کی بروقت کارروائی نے خاران کلی سراوان کو ایک بہت بڑی تباہی سے بچالیا۔دوسرا بڑا آپریشن 14 جون کی رات پنجگور میں پیش آیا جہاں فتنہ الخوارج کے 40 سے 50 بھاری ہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں نے N-85 شاہراہ پر سبزاب کے علاقے میں ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) کی ایک پوسٹ پر گھات لگا کر حملے کی کوشش کی۔ دہشت گرد سمجھ رہے تھے کہ رات کی تاریکی میں وہ پوسٹ کو نشانہ بنا لیں گے۔ مگر ایف سی بلوچستان(ساؤتھ) پہلے سے تیار تھی۔ جدید ٹیکنالوجی سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو بروقت ٹریس کرکے پوری پوسٹ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا تھا۔جیسے ہی دہشت گرد حملے کے لیے قریب پہنچے، ایف سی کے چاق و چوبند دستوں نے بھرپور جوابی کارروائی کی اور چند ہی لمحوں دہشت گردوں کو تہس نہس کردیا۔ 3 خوارج موقع پر جہنم واصل ہوئے اور 5 زخمی ہوئے۔ باقی خوارج اپنے ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر اندھیرے میں بھاگ کھڑے ہوئے۔ کلیئرنس آپریشن کے دوران جدید اسلحہ، گولہ بارود اور متعدد کنستر بم برآمد ہوئے۔ یہ سامان اس بات کا ثبوت تھا کہ دہشت گرد کتنی بڑی تباہی کا منصوبہ بنا کر آئے تھے۔ الحمدللہ! ایف سی بلوچستان(ساؤتھ) نے غیر معمولی جرات اور حکمت عملی سے بغیر کسی نقصان کے یہ حملہ بھی مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔خاران میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد علاقے کو یرغمال بنانا چاہتے تھے۔ پنجگور میں فتنہ الخوارج کے دہشت گرد پوسٹ پر قبضے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ دونوں کا مقصد ایک تھا۔ بلوچستان کا امن تباہ کرنا، ترقیاتی عمل کو سبوثار کرنا اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنا۔ مگر دونوں جگہ ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) بنیان مرصوص بن کر کھڑی ہو گئی۔آج جنوبی بلوچستان میں صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ پہلے فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گرد رات کے اندھیرے میں آتے تھے، کارروائی کرتے تھے اور پہاڑوں میں غائب ہو جاتے تھے۔ اب ایسا ممکن نہیں رہا۔ ایف سی بلوچستان(ساؤتھ) نے ٹیکنالوجی اور عوامی تعاون سے پورا نیٹ ورک بچھا دیا ہے۔ مقامی لوگ اب دہشت گردوں سے ڈرنے کے بجائے ان کی اطلاع دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب ان دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ ان کے پاس اب نہ محفوظ پناہ گاہیں ہیں، نہ آزادانہ نقل و حرکت کا راستہ ہے۔ دہشت گرد ہر اس چیز پر حملہ کرتے ہیں جو بلوچستان کو خوشحالی کی جانب لیکر جاتی ہے۔ مگر اب ان کے حملے ناکام ہو رہے ہیں۔ریاست اور سیکیورٹی ادارے یہ تہیہ کر چکے ہیں کہ اب کوئی رعایت نہیں ہو گی۔ یہ پیغام ہر اس شخص کے لیے ہے جو اب بھی فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے بہکاوے میں ہے۔ ہتھیار پھینکو اور قومی دھارے میں شامل ہو جاؤ۔ ورنہ انجام وہی ہو گا جو خاران اور پنجگور میں ہوا۔جنوبی بلوچستان کا جغرافیہ کٹھن سہی، مگر ایف سی (ساؤتھ)کے جوانوں کا حوصلہ اس سے زیادہ مضبوط ہے۔ وہ گرمی میں بھی مستعد ہیں اور سردی میں بھی۔ وہ عید پر بھی مورچوں میں ہیں اور شب برات پر بھی۔ ان کی قربانیوں کی وجہ سے آج بازار آباد ہیں، ہسپتالوں میں علاج ومعالجہ کی سہولیات میسر ہیں، اسکول کھلے ہیں۔ آج سڑکوں پر گاڑیاں رواں دواں ہیں۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپریشن مسئلے کا حل نہیں ہوتے۔ ان سے سوال ہے کہ جب زخم ناسور بن جائے تو سرجری لازم ہوجاتی ہے۔ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گرد بلوچستان کے جسم پر ناسور کی مانند ہیں۔ جب تک ان کو کاٹ کر الگ نہیں کیا جائے گا، ترقی کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ایف سی بلوچستان(ساؤتھ)یہی سرجری کر رہی ہے۔ دہشت گردوں کا اسلحہ پکڑا جا رہا ہے، ان کے سہولت کار بے نقاب ہو رہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر ان کی عوامی حمایت ختم ہو چکی ہے۔ جب عوام ساتھ چھوڑ دیں تو بڑی سے بڑی تحریک بھی دم توڑ دیتی ہے۔ ایک ایک دہشت گرد کو چن چن کر جہنم رسید کیا جا رہا ہے۔ جو بچ گئے ہیں وہ بھی زیادہ دیر نہیں بچ پائیں گے۔ جنوبی بلوچستان میں فتنہ الہندوستان وفتنہ الخوارج کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ کالعدم تنظیمیں،ان کے سہولت کار اور آلہ جتنی جلدی ہوسکے یہ بات سمجھ لیں۔اسلام میں بھی فسادفی الارض پھیلانے والوں کے سخت ترین احکامات ہیں۔ لہذابقائے انسانیت کے لیے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے۔