بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 54 دہشتگرد ہلاک، 42 جوان شہید
فتنہ الخوارج نے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، دہشتگردوں کو افغان سرکار کی پشت پناہی حاصل ہے: پاک فوج
راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر اہم نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ 4 روز کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشتگردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کرتے ہوئے 54 فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔
میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے 3 بڑے واقعات رونما ہوئے جن میں فتنہ الخوارج کے کارندوں نے معصوم شہریوں اور پولیس پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں کے خلاف دلیری سے لڑتے ہوئے سیکیورٹی فورسز اور مقامی پولیس کے 42 جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات اور فوجی ردعمل کی تفصیلات
ڈی جی آئی ایس پی آر نیوز کانفرنس کے مطابق دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
حملوں کا آغاز: پہلا واقعہ 4 اور 5 جولائی کی درمیانی رات پیش آیا جبکہ دوسرا واقعہ 6 جولائی کو رونما ہوا۔
زیارت اور منگی ڈیم پر حملے: منگی ڈیم کوئٹہ پمپنگ اسٹیشن کے علاقے اور زیارت میں پولیس چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔ منگی میں پہلے ہی دن پولیس کے 9 اہلکار شہید ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر 18 پولیس اہلکار شہید ہوئے جو سب مقامی تھے۔
آج کی کارروائی: سیکیورٹی فورسز کی تازہ ترین کارروائی میں 14 دہشتگرد مارے گئے، جبکہ وطنِ عزیز کے 11 بہادر جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ 4 دنوں میں مجموعی طور پر 54 خارجی ہلاک کیے جا چکے ہیں۔
"ریاستِ پاکستان کا موقف واضح اور دو ٹوک ہے۔ فتنہ الخوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نیچا نہیں دکھا سکتی۔" — ڈی جی آئی ایس پی آر
افغان سرزمین کا استعمال اور بھارتی سازش کا بے نقاب ہونا
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کے دوران دہشتگردوں کو ملنے والی بیرونی امداد پر کڑی تنقید کی۔
H3: افغان رجیم کی پشت پناہی اور سہولت کاری
انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ متعدد بار واضح کیا جا چکا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور ان کارروائیوں کو افغان رجیم کی پشت پناہی حاصل ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ حالیہ کراچی حملے میں بھی 4 میں سے 3 حملہ آور افغانی تھے، اور بلوچستان میں ہلاک ہونے والے بیشتر دہشتگردوں کا تعلق افغانستان سے ہے۔
H3: بلوچستان میں بھارت کی مداخلت
ملٹری ترجمان نے واضح کیا کہ بھارت بلوچستان میں براہِ راست دہشتگردی کروا رہا ہے تاکہ پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کے سفر کو روکا جا سکے۔
H2: سیکیورٹی کانفرنس کے اہم نکات اور مستقبل کا عزم
کومبنگ آپریشنز جاری: دہشتگردوں اور ان کے مقامی سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک ہر حد تک پیچھا کیا جائے گا۔
ترقی کا عزم: بلوچستان کی ترقی ہی اصل میں پاکستان کی ترقی ہے، معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
کامیابی کا یقین: ہم حق پر ہیں اور انشاء اللہ دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں فتح پاکستان کی ہو گی۔