کوئٹہ برائے فروخت ؟
کوئٹہ جو کبھی امن روایات اور خوبصورتی کا استعارہ سمجھا جاتا تھا آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا نظر آتا ہے جہاں قانون کی حکمرانی پر سوالات اٹھ رہے ہیں عدالتی فیصلے ہوں یا انتظامی احکامات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بااثر افراد کے سامنے سب بے معنی ہو چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ چند ماہ قبل میں نے اپنے دو کالمز کا عنوان کوئٹہ برائے فروخت رکھا تھا اور افسوس کے ساتھ آج اس سلسلے کی تیسری قسط لکھنے پر مجبور ہوں گزشتہ روز میں نے آرچر روڈ پر واقع عیسائی برادری کے زیرِ انتظام چلنے والے سینٹ گیبریل اسکول کے حوالے سے ایک کالم لکھا تھا اطلاعات کے مطابق اس اسکول کی عمارت چند بااثر افراد نے خرید لی ہے اور اب اسے ایک کمرشل پلازہ میں تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ معاملہ صرف ایک عمارت کی تبدیلی کا نہیں بلکہ قانون شہری حقوق اور مستقبل کی نسلوں کے مفاد کا معاملہ ہے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ زمین واقعی ایمنٹی پلاٹ ہے تو پھر اسے کمرشل استعمال میں کیسے لایا جا سکتا ہے سپریم کورٹ متعدد فیصلوں میں واضح کر چکی ہے کہ عوامی سہولت کے لیے مختص زمینوں کی حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکتی اگر اس اصول کو نظرانداز کیا جا رہا ہے تو کیا یہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی نہیں دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر اس پلاٹ کی حفاظت اور نگرانی متعلقہ سرکاری ادارے کی ذمہ داری تھی تو پھر یہ نجی افراد تک کیسے پہنچا کون سے قانونی مراحل اختیار کیے گئے کس قوانین کے تحت ملکیت یا استعمال کی نوعیت تبدیل ہوئی اگر سب کچھ قانون کے مطابق ہوا ہے تو متعلقہ ریکارڈ عوام کے سامنے کیوں نہیں لایا جاتا تیسرا اور شاید سب سے اہم سوال میٹروپولیٹن کارپوریشن سے ہے اگر یہ پلاٹ واقعی ایمنٹی کی حیثیت رکھتا ہے تو اس پر کمرشل نقشہ کس بنیاد پر منظور کیا گیا کیا متعلقہ قوانین پر عمل ہوا کیا تمام متعلقہ محکموں کی منظوری حاصل کی گئی یا پھر کہیں ایسا تو نہیں کہ طاقت اثر و رسوخ اور مفادات نے قانون کو پسِ پشت ڈال دیا
یہ سوالات صرف ایک پلاٹ تک محدود نہیں گزشتہ دس برسوں میں اگر واقعی شہر کے پانچ ایمنٹی پلاٹس کمرشل استعمال میں تبدیل کیے گئے ہیں تو یہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے جس کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں کیونکہ جب پارک اسکول کھیل کے میدان اور عوامی سہولت کی زمینیں ختم ہو جائیں گی تو آنے والی نسلوں کے لیے کیا باقی بچے گا ایک وقت تھا جب ایسے معاملات پر عدالتیں ازخود نوٹس لیا کرتی تھیں آج عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا قانون صرف کمزور کے لیے رہ گیا ہے کیا بااثر افراد کے سامنے ریاستی ادارے بے بس ہو چکے ہیں اگر ایسا تاثر مضبوط ہوتا گیا تو عوام کا اعتماد صرف اداروں پر نہیں بلکہ پورے نظام پر متزلزل ہو جائے گا ہر ایک سرکار کے احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھ کر اپنی مرضی کے مطابق کام کرے گا میرا گزشتہ کالم متعلقہ حکام تک پہنچ چکا ہیں لیکن اگر اب تک کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوئی تو یہ خاموشی خود کئی سوالات کو جنم دیتی ہے ایک صحافی اور شہری ہونے کے ناطے میرا فرض ہے کہ ایسے معاملات عوام کے سامنے رکھوں فیصلہ کرنا اور کارروائی کرنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے میں کوئٹہ کے شہریوں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ اس مسئلے کو صرف ایک اسکول یا ایک پلاٹ کا مسئلہ نہ سمجھیں اگر آج عوامی زمینوں پر خاموشی اختیار کی گئی تو کل یہی آگ ہر محلے ہر پارک ہر تعلیمی ادارے اور ہر عوامی سہولت تک پہنچ سکتی ہے شہر صرف حکومتوں کا نہیں شہریوں کا بھی ہوتا ہے اور اس کی حفاظت اجتماعی ذمہ داری ہے میں میڈیا سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ اس حساس معاملے کو غیر جانبداری اور تحقیق کے ساتھ اجاگر کرے اگر تمام قانونی تقاضے پورے ہوئے ہیں تو حقیقت سامنے آنی چاہیے اور اگر کہیں بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس کا احتساب بھی ہونا چاہیے آخر میں میری گزارش ہے کہ کمشنر کوئٹہ ڈویژن ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ اینٹی کرپشن متعلقہ وفاقی ادارے اور وفاقی محتسب اس معاملے کا فوری نوٹس لیں تمام ریکارڈ عوام کے سامنے لائیں اور اگر کسی سطح پر قانون کی خلاف ورزی یا اختیارات کا ناجائز استعمال ہوا ہے تو بلاامتیاز کارروائی کی جائے کوئٹہ کسی ایک فرد گروہ یا سرمایہ کار کی جاگیر نہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کا مشترکہ شہر ہے اگر آج بھی ہم نے خاموشی اختیار کی تو آنے والی نسلیں شاید یہ سوال کریں گی کہ جب شہر فروخت ہو رہا تھا تب اس کے محافظ کہاں تھے تمام دوستوں سے گزارش ہے میرے اس کالم کو ان افراد تک پپنچائیں جو کبوتر کی طرح آنکھ کئے ہوئے ہیں