افغانستان میں نسانی حقوق کی پامالیوں پر یورپی یونین کو تشویش
برسلز (ویب ڈیسک): افغانستان پر قابض طالبان رجیم کے سخت گیر اور انتہا پسندانہ اقدامات کے خلاف عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ (HRW) نے یورپی یونین کی جانب سے افغان طالبان کے ساتھ حالیہ مذاکرات پر شدید تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بدترین ریکارڈ کے حامل گروپ سے روابط عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہیں۔ واضح رہے کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث دنیا کے کسی بھی ملک نے تاحال طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم نہیں کیا ہے۔
یورپی یونین کی جانب سے ایک طرف طالبان کے اقدامات کی مذمت اور دوسری طرف عملی روابط برقرار رکھنے کے دوہرے معیار کو عالمی اداروں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ اور اقوامِ متحدہ کا طالبان کی پالیسیوں پر شدید ردعمل
عالمی واچ ڈاگز اور سفارت کاروں نے افغان عوام، بالخصوص خواتین پر مسلط کی جانے والی قدغنوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے سے سامنے آنے والے کلیدی موقف درج ذیل ہیں:
بنیادی آزادیوں پر شب خون: ہیومن رائٹس واچ کے مطابق طالبان رجیم نے افغانستان میں میڈیا کی آزادی کو مکمل طور پر سلب کر لیا ہے اور سیاسی مخالفین سمیت انسانی حقوق کے کارکنوں کو چن چن کر گرفتار کیا جا رہا ہے۔
خواتین کی عوامی زندگی پر پابندی: طالبان نے خواتین کی ثانوی و اعلیٰ تعلیم پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے، جبکہ ان کے روزگار اور آزادانہ نقل و حرکت کے حقوق کو بھی انتہائی محدود کر دیا گیا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں ڈنمارک کا واشگاف موقف: یو این میں ڈنمارک کی مستقل مندوب کرسٹینا مارکس لاسن نے طالبان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی خواتین اور لڑکیوں کو عوامی زندگی سے مکمل خارج کر کے ان کی آوازوں کو بے دردی سے دبایا جا رہا ہے۔
عالمی اداروں کی اس سخت تنقید سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اب غاصب طالبان رجیم کے حوالے سے کسی بھی قسم کے سیاسی یا سفارتی سمجھوتے پر تیار نہیں ہیں