مودی کا دورہ آسٹریلیا انسانی حقوق کی تنظیموں کا احتجاج کا اعلان
سڈنی (ویب ڈیسک): بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورہ آسٹریلیا کے موقع پر عالمی سطح پر نئی دہلی کے لیے شدید سفارتی و سیاسی ہزیمت کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور سٹرٹیجک مبصرین نے آسٹریلوی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مودی انتظامیہ کے سامنے بھارت میں ہونے والی سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں کا معاملہ اٹھائے۔ مودی کی آمد پر آسٹریلیا بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق مودی حکومت کے متنازع اقدامات، خاص طور پر مسلم دشمن پالیسیوں اور صحافیوں پر ریاستی دباؤ کو آسٹریلوی عوام اور سول سوسائٹی کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔
'دی گارڈین' کی رپورٹ: ہندوتوا نظریہ اور مسلم پناہ گزینوں کا اخراج
برطانوی معتبر جریدے 'دی گارڈین' نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایک آسٹریلوی نجی تنظیم نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت، گہرے تعصب اور مسلسل ظلم و ستم کے خلاف سڈنی اور دیگر شہروں میں پرزور احتجاج کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق:
متنازع شہریت قانون (CAA): مودی راج میں متعارف کرائے گئے متنازع شہریت ترمیم ایکٹ کے تحت مسلم ممالک سے آنے والے پناہ گزینوں کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت شہریت کے دائرے سے خارج کیا گیا۔
ریاستی ہندوتوا نظریہ: وزیرِ اعظم مودی کی جماعت بی جے پی ہندو نسلی قوم پرستی کے انتہا پسندانہ نظریے (ہندوتوا) کی کھلی حمایت کر کے بنیادی انسانی حقوق کو پامال کر رہی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل اور بھارتی تجزیہ کاروں کی مودی حکومت پر سخت تنقید
عالمی واچ ڈاگ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کینبرا حکومت کو مکتوب لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ وہ نئی دہلی پر دباؤ ڈالے کہ بھارت میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو بغیر کسی خوف، دباؤ یا انتقامی کارروائی کے کام کرنے کی مکمل آزادی دی جائے اور مذہبی و نسلی اقلیتوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں جاری امتیاز کا فوری خاتمہ ہو۔
بھارتی تجزیہ نگار جیتھرت راؤ نے اپنی ہی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے تبصرہ کیا کہ "خراب حکومتوں کو واقعی یہ سمجھ نہیں آتی کہ اقلیتوں کے نازک مسائل کو دانش مندی کے ساتھ کیسے سنبھالا جائے"۔
تحقیقات کا فقدان اور کھلی چھوٹ: بھارتی سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل اور انسانی حقوق کے علمبردار کولن گونزالویس نے بھارتی عدالتی و انتظامی نظام کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے کہا کہ صرف پچھلے پانچ برسوں میں بھارتی ریاستوں چھتیس گڑھ، منی پور اور لداخ میں بے شمار نسلی و مذہبی تشدد کے ہولناک واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ انہوں نے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ "موجودہ بھارت میں آپ کسی کو بھی قتل کر سکتے ہیں، اس کی نہ کبھی کوئی شفاف تحقیق ہو گی اور نہ ہی کسی ملوث سرکاری افسر کو سزا دی جائے گی