بھارتی خلائی پروگرام بحران کا شکار؛ اسرو کے بے جا اخراجات اور ناکامیوں پر سوالات
نئی دہلی: بھارتی خلائی تحقیقی ادارے (اسرو) کے بلند بانگ دعووں اور مودی سرکار کے ترقیاتی بیانیے کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب یورپی ماہرین کی تازہ تحقیق میں بھارت کے خلائی مشنز کے ہوشربا اخراجات، آپریشنل ناکامیوں اور تنظیمی ابتری کا پردہ فاش کیا گیا۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق بھارت دنیا میں سب سے مہنگی ترین ناکام خلائی لانچنگ کرنے والا ملک بن کر سامنے آیا ہے۔
عالمی اوسط سے تین گنا زائد لانچنگ لاگت
برطانوی نشریاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ یورپی تحقیقی رپورٹ کے مطابق، بھارتی خلائی ادارے کے مالیاتی و آپریشنل ماڈل میں سنگین نقائص موجود ہیں:
13,300 ڈالرز فی کلو گرام: بھارت کی فی کلو گرام خلائی لانچنگ لاگت 13 ہزار 300 امریکی ڈالرز تک پہنچ چکی ہے۔
عالمی اوسط کا تقابل: یہ لاگت عالمی سطح پر رائج اوسط لاگت (3 ہزار 868 ڈالرز فی کلو گرام) کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زائد ہے۔
محدود صلاحیت: 57 سالہ تاریخ میں بھارتی خلائی ادارہ مجموعی طور پر صرف 105 راکٹ خلا میں بھیجنے میں کامیاب ہو سکا ہے۔
ناکام راکٹ تجربات اور سائنسدانوں کا بڑے پیمانے پر اخراج
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اسرو نہ صرف مسلسل مالی دباؤ کا شکار ہے بلکہ حالیہ برسوں میں تکنیکی خرابیوں اور ناکام تجربات نے ادارے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اندرونی انتظامی بحران اور مایوس کن صورتحال کے باعث 100 سے زائد سینئر سائنسدان اور تکنیکی ماہرین ادارہ چھوڑ چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطیر بجٹ اور غیر معمولی اخراجات کے باوجود متوقع نتائج حاصل نہ ہونا بھارتی خلائی پروگرام کی افادیت پر گہرے سوالات کھڑے کرتا ہے۔