دنیا بھر سے واپس آنے والے افغان مہاجرین کی عدم بحالی: طالبان حکومت کی نااہلی پر اقوام متحدہ کا انتباہ

دنیا بھر سے واپس آنے والے افغان مہاجرین کی عدم بحالی: طالبان حکومت کی نااہلی پر اقوام متحدہ کا انتباہ

Jul 29, 2026|ویب ڈیسک

کابل / فراہ — دنیا بھر اور بالخصوص پڑوسی ممالک سے واپس اپنے وطن لوٹنے والے لاکھوں افغان مہاجرین طالبان حکومت کی شدید نااہلی کے باعث بے یار و مددگار ہو کر رہ گئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق طالبان انتظامیہ کی تمام تر توجہ عوامی مسائل اور بنیادی حقوق کی فراہم کے بجائے صرف جبر کے ذریعے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے پر مرکوز ہے۔


افغان خبر رساں ادارے آمو ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبہ فراہ سمیت مختلف علاقوں میں آباد بے دخل افغان مہاجرین کو شدید بے روزگاری، طبی سہولیات کی شدید قلت اور انسانی امداد کی عدم دستیابی کا سامنا ہے۔


معاشی تنگدستی اور بنیادی سہولیات کا فقدان

پڑوسی ممالک سے جبراً یا رضاکارانہ طور پر بیدخل ہونے والے افغان شہریوں کے لیے افغانستان پہنچتے ہی معاشی مشکلات کا ایک نیا پہاڑ کھڑا ہو گیا ہے، جس سے مقامی آبادی پر بھی شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔


آمو ٹی وی کے مطابق: "پڑوسی ممالک سے بیدخل ہونے والے لاکھوں افغان باشندوں کو ملک میں شدید معاشی بحران کا سامنا ہے، جبکہ طالبان انتظامیہ واپس لوٹنے والوں کو روزگار اور بنیادی ضروریات زندگی فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔"


اقوام متحدہ اور ماہرین کا شدید تشویش کا اظہار

اقوام متحدہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ واپس آنے والے افغان مہاجرین کی روزافزوں تعداد سے خطے میں موجود محدود امدادی خدمات اور مقامی وسائل پر غیر معمولی دباؤ بڑھ رہا ہے۔


اہم نکات:


انسانی بحران کا خطرہ: مہاجرین کے امور کے ماہر محمد جمال کے مطابق اگر طالبان حکومت نے ان مسائل کا فوری تدارک نہ کیا تو افغان عوام کو ایک تاریخی انسانی تراسدے کا سامنا کرنا پڑے گا۔


بنیادی خدمات کا فقدان: فراہ اور دیگر صوبوں میں محصور مہاجرین علاج معالجے اور غذائی اجناس سے محروم ہیں۔


عوامی ردِعمل و تجزیہ: ماہرینِ قانون و سیاست کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی ابتر حالت زار اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ افغان انتظامیہ عوامی مسائل حل کرنے اور حکومت چلانے کی صلاحیت سے محروم ہے