افغانستان میں طالبان کی جابرانہ پالیسیوں اور سنگین پامالیوں کا پردہ چاک
کابل — افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) نے اپریل تا جون کی سہ ماہی پر مبنی اپنی تازہ ترین رپورٹ جاری کر دی ہے، جس نے افغان عوام کی زبوں حالی، ریاستی جبر اور بنیادی انسانی حقوق کی منظم اور مسلسل پامالیوں کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے۔
یوناما کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق طالبان انتظامیہ کے تحت افغان خواتین پر تعلیم، ملازمت اور آزادانہ نقل و حرکت کی سخت پابندیاں مسلسل پانچویں سال بھی برابری کے ساتھ برقرار ہیں۔
خواتین پر تشدد اور تعلیم سے مکمل محرومی
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان حکام کی جانب سے عوامی مقامات پر خواتین کو مسلسل ہراساں اور گرفتار کیا جا رہا ہے۔
یوناما کی رپورٹ کے مطابق: "6 سے 8 جون کے دوران صوبہ ہرات میں طالبان نے نامناسب حجاب کے الزام میں 30 خواتین کو گرفتار کر کے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ دوسری جانب یونیورسٹی داخلہ امتحانات میں 1 لاکھ 20 ہزار مرد طلبہ کو شرکت کی اجازت دی گئی جبکہ طالبات کو امتحان سے مکمل طور پر محروم رکھا گیا۔"
عمومی معافی کا ڈرامہ اور میڈیا سنسرشپ
طالبان کی جانب سے سابق افغان حکومتی و سیکیورٹی اہلکاروں کے لیے عمومی معافی کے دعووں کے برعکس، سابق فوجی اور اہلکار بدستور طالبان کے انتقامی نشانہ پر ہیں۔
یوناما رپورٹ کے اہم نکات:
سابق فوجیوں کی پرشدد ہلاکتیں: اپریل تا جون کی رپورٹنگ مدت کے دوران 29 سابق فوجیوں کی گرفتاری، 5 پر شدید تشدد اور 8 کے ماورائے عدالت قتل کی تصدیق ہوئی۔
میڈیا پر سخت سنسرشپ: طالبان انتظامیہ نے ریڈیو لونگ اور ریڈیو بامیان کو مکمل بند کر دیا جبکہ قندھار اور غزنی میں سخت پالیسیوں سے نشریات شدید متاثر ہوئیں۔
صحافیوں پر کریک ڈاؤن: مئی میں طالبان انٹیلی جنس نے کابل میں مختلف میڈیا دفاتر پر چھاپے مار کر بغیر کسی قانونی جواز کے 3 صحافیوں کو گرفتار اور عملے کو حراست میں لیا