افغانستان میں بچوں کا قتل اور بھرتی، اقوام متحدہ نے پول کھول دی
**نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک):** افغانستان میں طالبان رجیم کے تحت بچوں کے بنیادی حقوق کی سنگین پامالیوں، بدامنی اور بڑھتی ہوئی غربت کے باعث نئی نسل کا مستقبل تاریک ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تازہ خصوصی رپورٹ نے افغان سرزمین پر بچوں کے قتل، معذوری اور انہیں دہشت گردانہ سرگرمیوں کا ایندھن بنائے جانے کے ہولناک حقائق بے نقاب کر دیے ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ موجودہ افغان رجیم میں بچوں اور بچیوں کے حقوق پر غیر قانونی و غیر انسانی پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2023ء سے دسمبر 2025ء کے دوران افغانستان میں بچوں کے خلاف سنگین نوعیت کے جرائم کے 4 ہزار 582 سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق اسی عرصے میں 1 ہزار 415 سے زائد بچوں کو بے دردی سے قتل یا مستقل معذور کیا گیا۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ عسکریت پسندی اور دہشت گرد کارروائیوں کے لیے بچوں کو بھرتی کرنے اور انہیں استعمال میں لانے کے واقعات میں 81 فیصد تک ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ معصوم بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے یہ گھناؤنے جرائم اور ان کا عسکری استعمال طالبان انتظامیہ کی نااہلی اور مجرمانہ کردار کا واضح ثبوت ہیں۔