افغان رج کے ا من و استحکام کے دعوے زمین بوس
داخلی خلفشار اور بڑھتی ہوئی مقامی مزاحمت نے طالبان قیادت کو شدید سیکیورٹی بحران سے دوچار کر دیا
کابل — افغان طالبان رجیم کے اندرونی خلفشار اور بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال نے ایک بار پھر کابل انتظامیہ کے نام نہاد امن و امان کے بیانیے کی قلعی کھول دی ہے۔ افغان طالبان جہاں عام شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں، وہاں اب وہ اپنے اہم کمانڈرز کو بھی تحفظ فراہم کرنے میں بے بس ہو چکے ہیں۔
معروف افغان جریدے 'دی افغانستان انٹرنیشنل' کی رپورٹ کے مطابق، صوبہ ننگرہار کے ضلع چپرحار میں جمعہ کے روز نامعلوم افراد کی فائرنگ سے افغان طالبان کے ایک مقامی کمانڈر کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے۔
مقتول کمانڈر کی شناخت اور اپنوں پر ہی شک؛ سگا بھائی گرفتار
سرکاری اعلامیے اور ذرائع کے مطابق اس ہائی پروفائل قتل کے بعد طالبان کی صفوں میں شدید سکھ کا ماحول ہے اور شکوک و شبہات کی بنیاد پر اکھاڑ پچھاڑ شروع کر دی گئی ہے۔
کمانڈر کی شناخت: مقتول طالبان کمانڈر کی شناخت 'مسافر' کے نام سے ہوئی ہے۔
واقعہ کی تفصیل: کمانڈر مسافر چھٹی گزارنے کے لیے اپنے ابائی گھر گیا ہوا تھا جہاں اسے نشانہ بنایا گیا۔
سگے بھائی کی گرفتاری: افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق، طالبان نے شدید اندرونی بداعتمادی کے باعث مقتول کمانڈر کے سگے بھائی کو ہی قتل کے شبہے میں گرفتار کر لیا ہے۔
ماہرین کی رائے: اندرونی بغاوت اور عوامی نفرت میں اضافہ
سیکیورٹی اور افغان امور کے ماہرین کے مطابق کمانڈرز پر بڑھتے ہوئے یہ حملے طالبان کے اندرونی ڈھانچے میں موجود دراڑوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
"طالبان رجیم کو اس وقت بیک وقت تین بڑے چیلنجز کا سامنا ہے: داخلی بغاوت، سیکیورٹی بحران اور مقامی سطح پر ابھرتی ہوئی مسلح مزاحمت۔"
موجودہ صورتحال کے اہم پہلو (Key Takeaways):
بیانیے کی ناکامی: طالبان کمانڈر کی ہلاکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ رجیم کا ملک میں مکمل امن قائم کرنے کا دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔
شدید داخلی شکوک: سگے بھائی کی گرفتاری ظاہر کرتی ہے کہ طالبان قیادت اب اپنوں پر بھی بھروسہ کرنے سے قاصر ہے۔
عوامی سطح پر بڑھتی نفرت: ماہرین کا ماننا ہے کہ طالبان کی سخت گیر پالیسیوں کے خلاف اب داخلی اور عوامی سطح پر نفرت شدت اختیار کرتی جا رہی ہے، جو سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی شکل میں سامنے آ رہی ہے۔